کشمیر میں یوم شہداء، علیحدگی پسند نظر بند

عمر عبداللہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعلی عمر عبداللہ نے فاتحہ خوانی میں شرکت اور میڈیا سے بات کئے بغیر چلے گئے

گزشتہ بائیس برس سے کشمیر میں ہر سال تیرہ جولائی کو سرکاری تعطیل ہوتی ہے اور علیحدگی پسندوں کی کال پر لوگ ہڑتال کرتے ہیں۔

کشمیری تاریخ کا یہ دلچسپ پہلو ہے کہ تیرہ جولائی کو ڈوگرہ پولیس کے ہاتھوں مارے گئے کشمیریوں کو حکومت اور حکومت مخالف حلقے اپنی اپنی تاویل کے مطابق شہید کہتے ہیں۔

لیکن اس روز سرینگر کے پُرانے مزارشہداء پر کڑے حفاظتی حصار کے بیچ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں گُلباری کرتی ہیں اور علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظربند کیا جاتا ہے۔ مزار شہداء پر عام لوگوں کی آمد کو ’امن کے لیے خطرہ‘ قرار دے کر شہر کی ناکہ بندی کی جاتی ہے۔

اس سال بھی اسی روایت کا اعادہ ہوا۔ دلچسپ بات ہے کہ جمعہ کے روز حکومت کی طرف سے اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا، جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ ’آیے ہم سب آج شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کریں اور ملک و قوم کی خوشحالی کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کا عہد کریں‘۔

اس اشتہار میں شہدا کو ’قوم کے جیالے‘ کہا گیا ہے جنہوں نے حکومت کے بقول اکاسی سال قبل ’آزادی اور جمہوریت کی منظم آواز‘ بن کر ’سرزمین کشمیر کو اپنے خون سے لالہ زار کیا‘۔

تیرہ جولائی کی مناسبت سے ہندنواز سیاسی لیڈروں اور علیٰحدگی پسندوں کے مؤقف میں صرف تاویل کا فرق ہے۔

ہندنواز کہتے ہیں کہ تیرہ جولائی کی قربانیوں کے طفیل کشمیر سے شخصی راج کا خاتمہ ہوگیا اور جمہوریت کا دور شروع ہوا۔ علیحدگی پسند کہتے ہیں کہ تیرہ جولائی کے شہیدوں کے وہی وارث ہیں اور موجودہ جدوجہد اُنیس سو اکتیس کا ہی تسلسل ہے۔

علیحدگی پسندوں کا استدلال ہے کہ ڈوگرہ شاہی کے خاتمہ کے بعد شیخ محمد عبداللہ (عمرعبداللہ کے دادا اور ڈوگرہ مخالف تحریک کے بانی) کو کشمیریوں پر مسلط کیا گیا۔ تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ اُس زمانے میں شیخ عبداللہ ایک مقبول عام لیڈر تھے۔

اس نظریاتی فرق کے باوجود ماضی میں کئی حکومتیں تیرہ جولائی کو قیدوبند اور قدغنوں سے احتراز کرتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندو نواز کہتے ہیں تیرہ جولائی کی قربانی کے سبب کشمیر میں جمہوریت کا دور شروع ہوا

لیکن پچھلے چند سال سے قدغنوں کا دور پھر سے شروع ہوا ہے۔ جمعہ کے روز سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق، شبیر احمد، محمد یٰسین ملک اور دیگر علیحدگی پسندوں کے گھروں پر پولیس کا پہرہ تھا جبکہ شہر کے بیشتر علاقوں میں ناکہ بندی کی گئی۔ یہاں تک کہ پرانے سرینگر کے خواجہ بازار علاقہ میں واقع مزار شہدا کے گرد خاردار تار لگادی گئی تھی اور سیکورٹی کے اضافی دستے تعینات تھے۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے علی الصبح فاتحہ خوانی میں شرکت کی اور میڈیا سے کوئی بات کیے بنا چلے گئے۔ بعد میں اپوزیشن رہنما مفتی محمد سعید آئے۔ انہوں نے پابندیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ’جب ہم یہاں آئے تو سڑکیں سننسان تھیں، یہ تو جیل جیسا ماحول ہے۔ اگر سب لوگ آنا چاہتے ہیں تو آنے دینا چاہیے۔‘

شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقے سے منتخب آزاد رکن اسمبلی عبدالرشید شیخ نے حکومت کی سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے دو ماہ قبل جموں میں ڈوگرہ خاندان کے آخری حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسہ کی رونمائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا’یہی حکومت جموں میں ہری سنگھ کے مجسمہ کی رونمائی کرتی ہے اور یہی حکومت یوم شہدا پر لوگوں کو قید کرتی ہے۔ ستم یہ ہے وزیراعلیٰ پھر شہیدوں کے لئے فاتحہ پڑھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے حکومت کا یہ اعتراف شکست ہے۔‘

واضح رہے اُنیس سو اکتیس کے ماہ جولائی میں کشمیر کی مطلق العنان ڈوگرہ انتظامیہ نے متعدد کشمیریوں کو شخصی راج کے خلاف 'بغاوت' کرنے پر سینٹرل جیل میں قید کرلیا تھا۔

جیل کے باہر مقدمہ کی شنوائی ہوئی اور اس دودران قیدیوں میں سے کسی نے اذان دی تو ڈوگرہ فوج نے فائرنگ کی۔ اس واقعہ میں درجنوں کشمیری مارے گئے۔ اس واقعہ کے خلاف وادی بھر میں مظاہرے ہوئے ، لیکن ڈوگرہ پولیس (جو اب باقاعدہ کشمیر پولیس ہے) نے جگہ جگہ جلوسوں پر براہ راست فائرنگ کی۔

اسی بارے میں