ماہی گیر کی ہلاکت پر انڈیا، امریکہ تنازع

آخری وقت اشاعت:  منگل 17 جولائ 2012 ,‭ 10:57 GMT 15:57 PST
ایس ایم کرشنا

بھارتی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی تفصیلا ت طلب کی ہیں

بھارت کی حکومت نے دبئی کے نزدیک سمندر میں امریکی بحریہ کے ایک فوجی محافظ کے ہاتھوں ایک بھارتی ماہی گیر کی ہلاکت کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

امریکہ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے دبئی میں مامور بھارتی سفیر سے اس واقعے کی تفصیل طلب کی ہیں۔ ایک مختصر سے بیان میں وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ بھارت کی درخواست پر دبئی نے اپنے سمندر میں ہونے والے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

یہ واقعہ دبئی کے نزیک سمندر میں کل اس وقت رونما ہوا جب خطے میں موجود امریکی بحریہ کے ایک جہاز کے بحری فوجیوں نے ایک چھوٹی موٹر کشتی پر سوار بھارتی ماہی گیروں پر گولی چلا دی۔ اس واقعہ میں ایک ماہی گیر ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

بھارت نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کی ہے اور مسٹر کرشنا نے بتایا کہ انہوں نے واشنگٹن میں بھارتی سفیر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکی حکومت سے بات کریں۔ اطلاعات ہیں کہ بھارتی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع اور وزارت خارجہ سے رابطہ قائم کیا ہے۔

اس دوران دلی میں امریکی سفیر نینسی پاول کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بھارتی ہلاک شدہ ماہی گیر کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کشتی پر امریکی بحریہ کے اہلکاروں نے اس وقت گولی چلائی جب یہ کشتی وارننگ کے باوجود امریکی جہاز یوا ایس این ایس ریپا ہیناک کی طرف بڑھتی رہی۔

امریکی سفارتخانے کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

بھارتی ماہی گیروں کی ہلاکت کا حالیہ دنوں میں یہ دوسرا اہم واقعہ ہے۔ چند ہفتے قبل کیرالہ کے سمندر میں اطالوی بحریہ کے ایک جہاز کے اہلکاروں کی فائرنگ میں دو بھارتی ماہی گیر ہلاک ہو گئے تھے۔

چونکہ یہ واقعہ بھارت کی بحری حدود میں ہو اتھا اس لیے اطالوی بحری اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر کیرالہ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان گرفتاریوں سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی تھی ۔

تازہ واقعہ میں بھارتی ماہی گیر کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے اس واقع کی جامع تفتیش ہونی چاہئیے ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔