انڈیا کےایک سابق مسلمان میجر کی شکایت

انڈیا کے مسلمان
Image caption بھارت کی مسلم تنظمیوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر اس طرح کی صورتحال کا اکثر سامنا ہوتا ہے لیکن بیشتر لوگ اسے معمول کا عمل سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔

بھارتی فوج کے ایک سابق میجر نے ملک کی ایک نجی فضائی کمپنی کے خلاف شکایت کی ہے اس کے عملے نے ان کے مسلم ہونے کے سبب ان کی اہانت کی اور انہیں ہراساں کیا۔ ایر لائن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

میجر محمد علی شاہ بھارتی فوج میں شارٹ سروس کمیشن افسر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کے خلاف قومی اقلیتی کمیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ کمیشن نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

میجر شاہ کے مطابق یہ واقعہ اٹھائیس جون کا ہے۔ انہوں نے دِلّی سے گوہاٹی کے لیے سپائس جیٹ کی پرواز منتخب کی تھی۔ جب وہ طیارے کے اندر بیٹھ گئے تو ان سےطیارے سے اتر کر اپنے چک ان کیے گئے سامان کی شناخت کرنے کے لیے کہا گیا جو ان کے مطابق ایک معمول کا عمل نہیں تھا۔

انہوں نے ’بتایاکہ جب وہ سامان کی شناخت کے لیے طیارے سے باہرنکلے تو انہوں نے اپنا سارا سامان بکھرا ہوا پایا۔’یہ صرف میرے ساتھ ہوا تھا کیونکہ مجھے میرے مذہب کی وجہ سے چنا گیا تھا۔ مجھ سے اس ایر لائن کے عملے نے ہاتھا پائی کی اور مجھے ذلیل کیا۔‘

مسٹر شاہ نے اس واقعہ کی تفصیل اقلیتی کمیشن کے سربراہ وجاہت حبیب اللہ کو دی ہے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لفٹیننٹ جنرل زیڈ یو شاہ کے بیٹے اور معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ کے بھتیجے ہیں۔

شاہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایر لائن کے ملازمین ان سے ایک خط پر دستخط کرانا چاہتے تھے جس میں لکھا ہوا تھا کہ شاہ کے خراب برتاؤ کے سبب انہیں طیارے پر سوار نہیں ہونے دیا گیا۔

میجر محمد علی شاہ نے سپائس جیٹ ایر لائن کو قانونی نوٹس دیا ہے۔ سپائس جیٹ نے میجر شاہ کے سبھی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایر لائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جب ان سے اپنا بیگیج شناخت کرنے کے لیے کہا گیا تو ان کا رویہ خراب ہو گیا اور وہ تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہی نہیں انہوں نے ہوائی اڈے کی عمارت کی غیر قانونی طریقے سے تصویر لینی شروع کر دیں۔‘

ان کے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ایر لائن نے کہا ہے کہ ’مسٹر شاہ اپنے رویے اور غیر قانونی حرکت کو صحیح ٹھہرانے کے لیے اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اقلیتی کمیشن کے سربراہ وجاہت جبیب اللہ نے ایر لائن سے اس واقعہ کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ’ہم نے ان سے سابق میجر محمد علی شاہ کی اس شکایت کے بارے میں پوچھا ہے کہ انہیں مسلم ہونے کے سبب نشانہ بنایا گیا۔‘

اقلیتی امور کے وزیر سلمان خورشید نے اس واقعہ پر افسوس اور تکلیف کا اظہار کیا ہے کہ ’میں بس یہی امید کرتا ہوں کہ۔۔۔یہ محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ اور یہ معاملہ مزید طول نہیں پکڑے گا۔‘

بھارت میں دِلّی کے ہی ہوائی اڈّے پرکچھ عرصے قبل ایک واقعہ میں سیکیورٹی کے اہلکاروں نے ایک مسافر کو لینے کے لیے گئے ہوئے دو مسلم ٹیچروں کو اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب انہوں نے بات چیت کے دوران کئی بار اردو کے لفظ ’مسائل‘ کا ذکر کیا۔ سیکیورٹی کے اہلکاروں نے یہ سمبھا کہ وہ ’مزائل‘ کی بات کر رہے ہیں۔ ان دونوں کو مختلف ایجنسیوں کے افسروں کے ذریعے کئی گھنٹے کی پوچھ گچھ کی بعد رہا کیا گیا تھا۔

بھارت کی مسلم تنظمیوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر اس طرح کی صورتحال کا اکثر سامنا ہوتا ہے لیکن بیشتر لوگ اسے معمول کا عمل سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔