آؤٹ لک کا ٹائم میگزین کو ترکی بہ ترکی جواب

باراک اوبامہ آؤٹ لک میگزین کے کوور پر تصویر کے کاپی رائٹ Outlook
Image caption آؤٹ لک میگزین کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کوور سٹوری ٹائم میگزین کی سٹوری کے جواب میں نہیں کی ہے۔

دو ہفتے پہلے امریکی جریدے ٹائم ميگزین کی سرِ ورق کی کہانی میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ’انڈراچیور‘ یا اپنے اہداف مکمل طور پر حاصل نہ کر پانے والا رہنما قرار دیا تھا جس کے جواب میں اب بعد ایک بھارتی جریدے نے بالکل اسی طرح اپنے سرِ ورق کی کہانی میں امریکی باراک اوباما کے لیے یہی لفظ استعمال کیے ہیں۔

بھارت کے ایک مقتدر اور مقبول خبری جریدے ’ آؤٹ لک‘ نے اپنے اس ہفتے کے شمارے میں امریکی صدر باراک اوباما کی تصویر صفحہ اول پر شائع کی ہے انہیں ’انڈر اچیور‘ یا ایسا لیڈر قرار دی ہے جو اپنے وعدے پورے نہ کر سکا ہو یا اپنے اہداف حاصل نہ کر پایا ہو۔

ٹائم میگزین نے سولہ جولائی کو شائع ہونے والے شمارے میں لکھا تھا کہ ’انڈیا نیڈز ری بوٹ‘ یعنی بھارت کو نئی شروعات کی ضرورت ہے جیسے ایک کمپوٹر کو بند کر کے دوبارہ شروع کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ربوٹ۔

بالکل اسی طرز پر آؤٹ لک میگزین نے لکھا ہے ’امریکہ نیڈز ری بوٹ‘ یعنی امریکہ کو نئی شروعات کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ time.com
Image caption ٹائم میگزین نے منموہن سنگھ کی لیڈرشپ پر سوال اٹھائے تھے

آؤٹ لک میگزین نے مزید لکھا ہے کہ باراک اوباما نے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا اور چار برس گزر جانے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی، کچھ نہیں ہوا اور اب اوباما کا جادو ختم ہوگیا ہے۔

آؤٹ لک میگزین کے مدیر اعلیٰ کرشنا پرساد نے کہا ہے کہ انہوں نے سرِ ورق کی یہ کہانی ٹائم میگزین کے جواب میں نہیں کی ہے۔اور نہ ہی اسے ’ جیسے کو تیسا‘ کہا جانا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کوور سٹوری منموہن سنگھ کی حمایت میں نہیں کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بہت دن سے کوشش کررہے تھے کہ باراک اوباما پر ایک سرِ ورق کی رپورٹ کریں۔ ہمارے میگزین کی توجہ تو باراک اوباما ہیں نہ کہ ٹائم کی سٹوری جو انہوں نے منموہن سنگھ کے بارے میں کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم امریکہ کے انتخابات کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینا چاہتے تھے اور اوباما کی گزشتہ چار برسوں کی کارکردگی کا پر تنقیدی نظر ڈالنا چاہتے ہیں، بس!'

کرشنا پرساد کا کہنا تھا ’اگر آپ باراک اوباما کو بھارتی نظریے اور غیر امریکی نظرریے سے دیکھیں گے تو آپ سمجھیں گے کہ جیسے منموہن سنگھ ناکام ثابت ہوئے ہیں اسی طرح سے باراک اوباما بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ چاہے آپ کو یہ بات اچھی لگے یا نہیں۔‘

انہوں نے ان الزامات کو تردید کی کہ انہوں نے اوباما کے بارے میں یہ کوور سٹوری حکومت کے دفاع میں کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ کچھ دن بات ہوسکتا ہے کہ ہم برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے بارے میں اسی طرح کی سٹوری کریں۔ ہم بی بی سی کی طرح دنیا کو غیر جذباتی نظریے سے دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں کہانیاں کرتے ہیں۔‘

ٹائم میگزین کی سٹوری کے بعد آؤٹ لک میگزین کی سٹوری فیس بک اور ٹوئٹر پر بے حد مقبول ہو رہی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ آؤٹ لک نے ٹائم میگزین کو ’ کرارا جواب دیا ہے‘ وہیں بعض کا کہنا ہے کہ ’ یہ اچھے حسِ مزاح کی مثال ہے۔‘

وہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ’بھارتی میڈیا اور خود بھارتی اپنے بارے میں کچھ برا سننا پسند نہیں کرتے ہیں۔‘