آسام: پرتشدد واقعات میں آٹھارہ ہلاک، فوج طلب

بی ایس ایف (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسام میں کےمطابق تشدد نے نسلی رنگ اخیتار کر رکھا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے کوکراجھار اور چرانگ اضلاع میں جاری تشدد میں مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ تک پہنچ گئی ہے اور ریاستی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کر لیا ہے۔

گوہاٹی اور کوکراجھار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تشدد سے بچنے کے لیے صرف کوکراجھار ضلع میں چھبیس ہزار لوگوں نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لی ہے جبکہ ضلع میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے واقعات کوکراجھار میں اقلیتی طلباء تنظیموں کے دو رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئے۔ اس حملےمیں آل بوڈولینڈ مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے مجیب الاسلام اور آل آسام مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے عبدالصدیق شیخ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے چار سابق کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور تب سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس کے مطابق چرانگ ضلع کے ہسراؤ بازار میں نامعلوم حملہ آوروں نے اتوار کی شام تین لوگوں کو دھاردار ہتھیاروں سے قتل کر دیا جبکہ دو لوگ منگولیاں بازار میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔

یہ دونوں اضلاع بوڈو قبائلیوں کے زیرِانتظام ہیں۔ خطے کے انسپکٹرجنرل پولیس ایس این سنگھ کے مطابق تشدد پر قابو پانے کے لیے فوج ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مدد کر رہی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں نیم فوجی دستوں کی چھ کمپنیاں اور دو پلاٹون بھی تعینات کی گئی ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایک ہجوم نے مظاہرے کے دوران دلی گوہاٹی راجدھانی ایکسپریس ٹرین کو بھی روکا ہے لیکن مسافروں یا ٹرین کو کوئی نقصان پہنچائے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کےمطابق تشدد نے نسلی رنگ اختیار کر رکھا ہے۔ ایک طرف بوڈو قبائلی ہیں اور دوسری طرف وہاں باہر سے آ کر بسنے والے لوگ۔

طلباء تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے بوڈولینڈ میں مقامی شرپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے علاقے میں پہلے سے ہی کشیدگی تھی اور طلبا کے رہنماؤں پر حملے کےبعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔

اسی بارے میں