آسام: کرفیو نافذ، دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

آسام، متاثرین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فسادات سے متاثرہ ہزاروں لوگ نقل مکانی کرکے کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں

آسام کے تشدد سے متاثرہ ضلع کوکراجھار میں فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کر دیاگیا ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے وہاں فوج گشت کر رہی ہے۔

گزشتہ جمعہ سے جاری تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد اب اکیس ہوگئی ہے اور کوکراجھار ضلع میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے۔ ضلع کے دور دراز علاقوں سے بھی تشدد کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امدادی کیمپوں میں پناہ لینے والے لوگوں کی تعداد اب ساٹھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی سے کہا ہے کہ وہ فسادات کو روکنے کے لیے سختی سے کارروائی کریں۔

دلی میں وفاقی داخلہ سیکرٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ ریاست کی صورتحال سےنمٹنے کے لیے جو بھی مدد درکار ہوگی، وہ فراہم کی جائے گی۔

کوکراجھار ضلع میں اب تک بوڈو قبائلیوں اور وہاں آکر بسنے والے مسلمانوں کے درمیان تشدد میں اکیس لوگ مارے جاچکے ہیں۔ چرانگ اور ڈھربی اضلاع میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اور وہاں رات کا کرفیو جاری ہے۔

ضلع کے اندرونی علاقوں سے بہت سے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں اور وہاں اعتماد بحال کرنے کے لیے فوج کی گشت کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاستی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں نیم فوجی دستوں کی اٹھارہ کمپنیاں تعینات کی ہیں۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سےکہا ہے چرانگ کے مختلف سکولوں اور سرکاری دفاتر میں تقریباً دس ہزار لوگوں نے خود ہی پناہ لے ہی ہے کیونکہ وہاں امدادی کیمپ قائم نہیں کیےگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فسادات کے دوران کئی مکانوں کو آگ لگا دی گئي

شمال مشرقی ریاستوں میں ٹرینوں کی سروس بھی متاثر ہوئی ہے او ریلوے کے اہلکاروں کے مطابق بہت سے سٹیشنوں پر مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ پیر کو نامعلوم افراد نے راجدھانی ایکسپریس پر پتھراؤ کرکے چار ڈبوں کو نقصان پہنچایا تھا لیکن کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ ٹرین ابھی تک گواہاٹی کے لیے اپنا سفر دوبارہ شروع نہیں کرسکی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے واقعات کوکراجھار میں اقلیتوں کے طلبا کی تنظیموں کے دو رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں بوڈو لبریشن ٹائگرز کے چار سابق کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور تب سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

پی ٹی آئی کےمطابق تشدد نے نسلی رنگ اخیتار کر رکھا ہے، ایک طرف بوڈو قبائلی ہیں اور دوسری طرف وہاں باہر سے آکر بسنے والے لوگ۔ طلبا کی تنظیموں کا دعوی ہے کہ انتظامیہ نے بوڈولینڈ میں مقامی شرپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات روکنے کے لیے خاطرخواہ کارروائی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے علاقے میں پہلے سے ہی کشیدگی تھی اور طلبا کے رہنماؤں پر حملے کےبعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔

اسی بارے میں