نسلی تشدد میں مسلم نشانہ بنتے ر ہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسام میں تازہ ہلاکتیں نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ہوئی ہیں

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نسلی تشدد تیزی سے پھیل رہا ہے اور بڑھتے ہوئے جانی نقصان سے اس اندوہناک واقعے کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں جس کا شمار ملک میں خونریزی کے بدترین واقعات میں کیا جاتا ہے۔

یہ بات اٹھارہ فروری انیس سو تراسی کی ہے جب نیلی قتل عام ہوا تھا۔

اس وقت سرحد پار سے بنگلہ دیشی شہریوں کی ریاست میں غیر قانونی آمد کو روکنے کے لیے آل آسام سٹوڈنٹس یونین (آسو) کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ تحریک کے قائدین کا الزام تھا کہ بنگلہ دیشیوں کی بے روک ٹوک دراندازی سے ریاست کا نسلی کردار تبدیل ہو رہا ہے۔

مرکز میں اس وقت کانگریس کی حکومت تھی اور جب طلباء کے رہنماؤں سے مذاکرات میں کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچا جاسکا تو وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اسمبلی انتخابات کا اعلان کردیا۔

سٹوڈنٹس یونین کا مطالبہ تھا کہ انتخابی فہرستوں سے ان لوگوں کے نام خارج کیے جائیں جو غیر قانونی طور پر ریاست میں آکر بس گئے ہیں۔

آسو نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور پھر الیکشن کے دوران اٹھارہ فروری کو صبح تقریباً نو بجے ایک مسلح ہجوم نے نیلی اور اس کے آس پاس کے دیہات پر حملہ کردیا اور چھ گھنٹے بعد جب نیم فوجی دستے وہاں پہنچے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار ایک سوا اکیانوے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکات تھا۔ یہ سب مسلمان تھے اور ان میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے شامل تھے۔

اس وقت سے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، کچھ لوگ پانچ ہزار ہلاکتوں کی بات کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فسادات سے متاثرہ ہزاروں لوگ نقل مکانی کرکے کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں

چودہ اگست انیس سو پچاسی کو حکومت اور آسو کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا۔ اس وقت تک اندرا گاندھی کو قتل کیا جاچکا تھا اور وزیر اعظم کی ذمہ داری راجیو گاندھی سنبھال چکے تھے۔ اس سمجھوتے کے تحت ان سبھی تین سو اٹھہتر مقدمات کو بھی ختم کردیا گیا جو نیلی کے قتل عام کے سلسلے میں قائم کیے گئے تھے۔

اس واقعہ کو اب تقریباً تیس برس گزر چکے ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق جو لوگ آسو کی تحریک کے دوران نشانے پر تھے وہ اب معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نسلی بنیادوں پر کشیدگی ختم ہوگئی ہے۔

کوکراجھار ضلع ریاست کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں پہلے بھی کئی مرتبہ بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک چکا ہے۔ تشدد کے موجودہ دور میں سو گاؤں جلائے جاچکے ہیں۔ مرنے والوں میں بوڈو قبائلی بھی شامل ہیں اور مسلمان بھی، اور اپنے گھر چھوڑ کر بھاگنے والوں کی تعداد اب ایک لاکھ سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

جو تین اضلاع اس وقت تشدد کی زد میں ہیں ان میں بوڈو قبائلیوں کا غلبہ ہے اور یہ بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل کے نام سےجانے جاتے ہیں۔ بی ٹی سی کا وجود سن دو ہزار تین میں حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔

بوڈو لینڈ کے قیام کی تحریک بوڈو لبریشن ٹائگرز نے چلائی تھی۔ یہ تنظیم اگرچہ اب ختم کی جاچکی ہے لیکن بی ٹی سی کی قیادت اسی تنظیم کے سابقہ رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہے اور ان کی پارٹی دو ہزار چھ سے کانگریس کی اتحادی ہے۔

موجودہ لڑائی بظاہر دو مسلمان نوجوان رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی اور اس حملے کے لیے بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے سابق کارکنوں کو ذمہ دار بتایا جا رہا ہے۔ اب لڑائی میں ایک طرف اس علاقے میں باہر سے آکر بسنے والے مسلمان ہیں اور دوسری طرف بوڈو قبائلی۔

تجزیہ نگار بنود رنگانیا کا کہنا ہے کہ بی ٹی سی کے علاقوں میں کشیدگی کئی مہینوں سے پنپ رہی تھی۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ علاقے کی غیر بوڈو آبادی بوڈو قبائلیوں کی جانب سے ایک علیحدہ ریاست کے مطالبے کی کھل کر مخالفت کر رہی تھی۔ مخالفت کی تحریک طلبا کی دو تنظیموں نے سنبھال رکھی ہے جو بنیادی طور پر مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ ان تنظیموں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ جن دیہات میں بوڈو قبائلیوں کی آبادی نصف سے کم ہے انہیں بی ٹی سی سے باہر نکالا جائے۔

اس کے علاوہ غیر بوڈو آبادی کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ مقامی انتظامیہ ان کی شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کرتی اور ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔

انیس سو ترانونے میں بوڈولینڈ کی تحریک کے دوران کوکراجھاڑ بونگائی گاؤں اضلاع میں پچاس مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سبھی بنگلہ دیش سے وہاں آکر بس گئے تھے۔ اس کے بعد مئی انیس سو چورانوے میں بھی نسلی تشدد میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

انیس سو چھیانوے میں جب دوبارہ نسلی تشدد بھڑکا تو دو سو لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ جھگڑا بوڈو اور آدیواسیوں (دیگر قبائلیوں) کے درمیان تھا اور دو لاکھ سے زیادہ ’آدیواسی‘ جان بچاکر اپنے گھروں سے بھاگ گئے تھے۔

بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان آخری مرتبہ جھگڑا دو ہزار آٹھ میں ادالگوری میں ہوا تھا جس میں سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جہاں تک نیلی کا سوال ہے، اس علاقے میں اب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

اسی بارے میں