’گناہ گار ہوں تو پھانسی پر لٹکا دیں‘

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی عام طور پر گجرات فسادات سے متعلق سوالات کے جواب نہیں دیتے ہیں

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی نے کہا ہے کہ اگر ریاست میں سن دو ہزار دو کے فسادات کے سلسلے میں ان پر کوئی جرم ثابت ہوتا ہے ’ تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔'

نریندر مودی نے یہ بات اردو زبان کے اخبار نئی دنیا کے مدیر شاہد صدیقی کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی جس میں انہوں نے فسادات کے دوران اپنی حکومت کے کردارا کا دفاع کیا۔

نریندر مودی شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے ہیں اور سن دو ہزار دو کے فسادات کےبارے میں سوالوں کا جواب دینے سے بچتے ہیں۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ انہوں نے فسادات کے دوران اپنی حکومت کے رول پر ایک اردو اخبار سےبات کی ہے۔

گجرات میں ایک ٹرین میں آگ لگائے جانے کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ مرنے والوں میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ وہ ان فسادات کے لیے قوم سے معافی کیوں نہیں مانگتے، نریندر مودی نےکہا:’ اگر ایک سرکار نے یہ سب کروایا ہےتو اسے چوراہے پر پھانسی پر لٹکایا جانا چاہیے، ایسی پھانسی دی جانی چاہیے کہ مستقبل میں سو سال تک کوئی حکمراں اس طرح کا پاپ نہ کرسکے، اسے معاف کرنا ہی نہیں چاہیے، اور جو معافی مانگنے کی وکالت کرتے ہیں، وہ گناہ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔اگر نریندر مودی نے گناہ کیا ہے، دور دور تک کیا ہے، تو مودی کو پھانسی پر لٹکا دیں، یہ میری مانگ ہے۔۔۔'

لیکن جواب میں کانگریس کے وفاقی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ جرم ثابت اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مقدمہ قائم کرنے دیا جائے لیکن فسادات کو اتنا عرصہ گزجانے کے بعد بھی نریندر مودی کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی ہے۔

فسادات کے سلسلے میں نریندر مودی کو بہت سے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان پر بنیادی الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ٹرین میں ہندو کارسیوکوں کی ہلاکت کے بعد پولیس کو یہ ہدایت دی تھی کہ ہندوؤں کو اپنا غصہ نکالنے دیا جائے۔

یہ الزام ایک اعلی سابق پولیس اہلکار بھی لگا چکے ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں نریندر مودی نے یہ احکامات جاری کیے تھے۔ لیکن ابھی تک ان کے خلاف کسی عدالت میں کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا ہے۔

نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ فسادات پر وہ پہلے ہی افسوس ظاہر کرچکے ہیں۔’ آج معافی مانگنے کا کیا مطلب ہے، میں نےتو اس وقت ذمہ داری لی تھی، افسوس کیا، معافی مانگی۔۔'

نریندر مودی قومی سیاست میں زیادہ بڑا رول نبھانا چاہتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار ہیں۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعتوں کو وہ قبول نہیں ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی شبیہہ بدلنے کی کوشش کی ہے۔

گجرات میں اسی برس ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں اور اس انٹرویو کے لیے ایک اردو اخبار کے انتخاب سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔

نریندر مودی نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ وہ ہندوستان کو ایک ہندو ملکم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اپنی ریاست میں انہوں نے مسلمانوں کی ترقی کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا ہے۔

نریندر مودی کے اس بیان پر سوشل میڈیا میں بھی شدید بحث ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو پھانسی پر کون لٹکا سکتا ہے ’وہ خود ہی قتل کرتے ہیں اور خود ہی سزا دیتے ہیں۔‘ وہیں کچھ کا خیال ہے کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بن جائیں گے تو ملک بہت ترقی کرے گا۔

اسی بارے میں