کشمیر: حادثے میں سولہ ہندو یاتری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچیس جون سے اب تک اس یاترا کے دوران سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں امرناتھ غار کی یاترا سے واپسی ہندو یاتریوں سے بھرا ایک ٹرک کھائی میں گرنے سے سولہ یاتری ہلاک ہو گئے ہیں۔

کشمیر کے جنوب میں پیرپنچال پہاڑی سلسلے پر واقع شری امرناتھ غار کی یاترا سے واپسی کے دوران یاترا لنگر سے جڑا ایک ٹرک جموں خطے میں لڑھک کر ایک گہری کھائی جاگرا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ حادثہ سرینگر سے چار سو میٹر دُور سانبہ، زمبورہ شاہراہ پر جمعرات کی شب پیش آیا۔ حادثہ میں متعدد یاتری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس طرح پچیس جون سے اب تک اس یاترا کے دوران سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ اس پر بھارتی سپریم کورٹ نے مقامی حکومت سے باقاعدہ جواب طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری رجسٹریشن کے تحت یاتریوں کو اپنی طبی جانچ کی سند بھی پیش کرنا ہوتی ہے۔

اکثر اموات سخت سردی اور پہاڑی بلندیوں پر آکیسجن کی کمی کے باعث حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، جبکہ گزشتہ روز جموں سرینگر شاہراہ پر یاتریوں سے بھری ایک گاڑی حادثہ کا شکار ہوئی جس میں پندرہ یاتری ہلاک ہوگئے۔

سڑکوں کی حالت بہتربنانے کا چیلنج تو دیرینہ ہے، لیکن حکومت فی الوقت یاتریوں کے رش سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق صرف تین ہفتوں کے دوران کُل ساڑھے پانچ لاکھ یاتریوں نے امرناتھ گھپا میں شولنگ کے درشن کئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے پونے چار لاکھ کے قریب یاتریوں نے ہی مطلوبہ رجسٹریشن کیا تھا۔ اس رجسٹریشن کے تحت یاتریوں کو اپنی طبی جانچ کی سند بھی پیش کرنا ہوتی ہے، لیکن سرکاری افسروں کا کہنا ہے کہ جموں میں مقیم ہندونواز گروپوں نے اس معاملے کو وقار کا مسئلہ بنالیا ہے اور ان کی کوشش یہ رہتی ہے کہ کس طرح حکومت کو نیچا دکھایا جائے۔

اسی بارے میں