بھارت: منموہن آسام کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ no credit

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں جاری نسلی تشدد پر فی الحال فوج نے قابو پا لیا ہے۔ آسام میں نسلی تشدد کے دوران پینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سنیچر کو آسام کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وہ ریاستی دارالحکومت گوہاٹی پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

تشدد سے متاثرہ علاقوں بطور خاص کوکرا جھار میں کرفیو میں تھوڑی نرمی کی گئی ہے جبکہ چرانگ، دھبری اور بونگ گئی اور آس پاس کے علاقوں میں معمول کی زندگی بحال ہونے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

آسام میں گزشتہ ہفتے بنگلہ زبان بولنے والی مسلم برادری کے افراد اور وہاں کی اکثریتی برادری بوڈو قبائل کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ آٹھ دن تک جاری رہنے والے تشدد کے واقعات میں پینتالیس ا‌فراد ہلاک ہوئے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے۔

پرتشدد واقعات کے بعد اب ریاست میں سرکاری دروں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کو وزیراعلی ترون گوگوئ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مرکزی حکومت پر فوری امداد فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا۔

ہفتہ کو وزیراعظم من موہن سنگھ فسادزدہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان کے ہمراہ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی ہونگی۔

وزیراعظم مسلم اقلیتی اور بوڈوقبا‎ئلی امدادی کیمپوں کا دورہ کریں گے اور متاثرہ لوگوں کے لیے راحت پیکج کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ ریاست آسام سے ہی ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے نامزد رکن ہیں۔

دریں اثنا بی بی سی کے نمائندے سووجیت باگچی نے کہا ہے کہ حالات پر قابو پانے اور تشدد بھڑکانے کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان کشیدگی ہے۔

وزیراعظم نسلی تششد کے مرکز کوکراجھار جائیں گے جہاں سے وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرکٹ ہاؤس پہنچیں گے۔ کوکراجھار کے امدادی کیمپوں کے بعد پروگرام کے متابق وہ دوراباری کیمپ بھی جائیں گے جہاں چند روز فبل کیمپ پر بھی حملہ کر دیا گیا تھا اور ایک خاتون کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ سوموار کو نسلی تشدد سے متاثر ہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور حفاظتی اور بازآبادکاری کے انتظامات پر ریاستی حکام سے بات چیت کریں گے۔ اس دورے میں وہ بوڈو رہنما اور اقلیتی برادری مسلمانوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے واقعات کوکراجھار میں اقلیتی طلباء تنظیموں کے دو رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئے۔ اس حملےمیں آل بوڈو لینڈ مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے مجیب الاسلام اور آل آسام مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے عبدالصدیق شیخ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے چار سابق کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور تب سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق بوڈو قبائل نے جوابی کارروائی بڑی منصوبہ بندی سے شروع کی تھی یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ہر ممکن حکمت علمی کے باوجود تشدد کو روکا نہیں جا سکا۔

اسی بارے میں