’شادی کے باوجود جنسی عمل ریپ ہوگا‘

زن و شو تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بھارت میں لڑکیوں کے لیے بالغ ہونے کی عمر اٹھارہ سال ہے۔

دلی ہائی کورٹ نے ایک اپیل کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ شادی کے بعد بھی جنسی تعلق قائم کرنا ریپ کے زمرے میں شامل ہے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ خواہ جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے لڑکی کی رضامندی ہی کیوں نہ ہو اسے ریپ تسلیم کیا جائے گا اور ایسے معاملے میں مرد کو اس کے مذہبی حقوق کے تحت بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

بھارت کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نگراں چیف جسٹس اے کے سیکری کی سربراہی میں دلی ہائی کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے کہا ’پندرہ سال سے کم عمر کی بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنا آئی پی سی کی دفعہ تین سو پچھتر کے تحت جرم ہے اور اس قانون کے بارے میں کوئی استثنٰی نہیں ہے اور اسے سختی کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔‘

تین رکنی بنچ کے سامنے یہ سوال بطور خاص رکھا گیا تھا کہ ’کیا کسی فرد کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ تین سو تریسٹھ اور تین سو چھہتّر کے تحت درج معاملے کو نابالغ لڑکی کے اس بیان پر خارج کیا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔‘

عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ ایسی حالت میں اگر لڑکی کی عمر سولہ سال سے زیادہ اور اس نے شادی کے بعد جنسی تعلقات کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے تو متعلقہ شخص کے خلاف درج ایف آئی آر کو قانون کے مطابق خارج کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لڑکی کی عمر سولہ سال سے زیادہ ہے اور اگر وہ یہ بیان دیتی ہے کہ وہ رضامند تھی اور وہ بیان کسی دباؤ تحت یا کسی کے اثر میں نہیں دیا گیا ہے تو اس بیان کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے آئی پی سی کی دفعہ تین سو ترسٹھ (اغوا کی دفعہ) یا دفعہ تین سو چھہتّر (ریپ) کے معاملے کو خارج کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں