مذہبی مقامات کے کیس میں حکم امتناع سے انکار

آخری وقت اشاعت:  پير 30 جولائ 2012 ,‭ 11:28 GMT 16:28 PST

فسادات کے دوران بلوائیوں نے پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہیں تباہ کردی تھیں

بھارتی سپریم کورٹ نےگجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر حکم امتناع جاری کرنے سے منع کر دیا ہے جس میں دو ہزار دو کے فسادات کے دوارن تباہ ہونے والی مذہبی عمارتوں کی مرمت کا حکم دیا گیا تھا۔

گجرات ہائي کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ فسادات کے دوران مسمار کی گئي مذہبی عمارتوں کی مرمت کا کام ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جن عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے حکومت اس کی مرمت کے لیے رقم مہیا کرے۔

ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر روک لگائی جائے۔

پیر کے روز عدالت عظمی نے اس معاملے پر سماعت کے دوران حکم امتناع جاری کرنے سے منع کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ فسادات کے دوران تباہ ہونے والی مذہبی عمارتوں کی مرمت کے لیے ایک سکیم بنائی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں اپنے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ریاست اڑیسہ میں دو ہزار نو کے کندھمال فسادات کے دوران تباہ ہونے والے گرجا گھروں کی مرمت کے لیے ریاستی حکومت کو ایک سکیم تیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

جب عدالت نے پوچھا کہ کیا اس طرح کی کسی سکیم کا منصوبہ ہے تو اس پر گجرات کی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نقصان پہنچنے والی عمارتوں کو معاوضہ دینے کے لیے حکومت ایک سکیم پر کام کر رہی ہے۔

اس سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے فسادات کے دوران مذہبی عمارتوں کی مسماری سے متعلق ریاستی حکوت سے تفصیل طلب کی تھی اور کہا تھا کہ مذہبی مقامات کی مرمت پر آنے والے خرچ سے متعلق معلومات جمع کرائی جائیں۔

گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ فروری میں یہ حکم دیا تھا کہ ریاستی حکومت گودھرا کے واقعے کے بعد رونما ہونے والے فسادات میں تباہ ہونے والی پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کی تعمیر کے لیے معاوضہ ادا کرے۔

گجرات میں مودی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں نقص ہے ’کیونکہ ملک کے آئین کے سیکولر اصولوں کے تحت کوئی حکومت مذہبی اداروں کو رقم فراہم نہيں کر سکتی۔‘

گجرات کے مسلمانوں کی ایک تنظیم اسلامک ریلیف کمیٹی نے سنہ دو ہزار تین میں احمد آباد میں عدالت میں معاوضے کے لیے درخواست داخل کی تھی۔ اسلامک کمیٹی کے مطابق فسادات کے دوران پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کو تباہ کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔