انا ہزارے کی بھوک ہڑتال، میڈیا پر نکتہ چینی

انّا ریلی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شروع میں انّا ہزارے کو جو عوامی حمایت ملی تھی اس بار وہ نظر نہیں آ رہی ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے کی بھوک ہڑتال جاری ہے لیکن اس بار ان کی تحریک میں کم لوگ شریک ہیں۔

انّا ہزارے نے انتیس جولائی سے پھر سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی ہے لیکن اس بار ان کی تحریک میں لوگ بڑے پیمانے پر حصہ نہیں ے رہے ہیں اور میڈیا میں بھی کوریج کم ہے۔

انا ہزارے اور ان کے بعض ساتھی پارلیمنٹ کے پاس ہی جنتر منتر پر بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

پیر کی رات کو جب صحافی اس تحریک کی کوریج کے لیے پہنچے تو انّا ہزارے کے بعض حامیوں اور صحافیوں میں تکرار ہوگئی جس کے بعد میڈیا کے لوگوں کے ساتھ بد سلوکی کی گئی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

میڈیا پر ہوئے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انا ہزارے نے کہا انہوں نے جب اس کے بارے میں سنا تو انہیں بہت صدمہ پہنچا۔

ان کا کہنا تھا ’اگر آپ تشدد پر آمادہ ہوں گے تو یاد رکھیے حکومت ہمیں دو روز میں ختم کر دیگی۔ ان کے پاس یہ کرنے کے لیے طاقت اور قانون دونوں ہے۔ مستقبل میں اگر اس طرح کا کوئی اور واقعہ پیش آيا تو میں اسی وقت احتجاج ختم کردوں گا۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میڈیا کو اپنا کام کرنے دو اور وہ کیا کرتے ہیں اس پر پریشان مت ہو۔‘

انا ہزارے کی ٹیم میں شامل دوسرے اہم رکن اروند کیجری وال نے میڈیا پر ہوئے حملے کے حوالے سے معذرت کی ہے۔ مسٹر کیجریوال بھی انا کے ساتھ بھوک ہڑتال پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے اور اس کے لیے ادارہ کے مالکان کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ ’انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملک کے ساتھ ہیں یا پھر بدعنوان لوگوں گے ساتھ ہیں۔‘

انا کی ٹیم نے اس بار جو بھوک ہڑتال شروع کی ہے اس میں جن لوک پال بل کی منظوری کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گيا ہے کہ حکومت مرکزی کابینہ کے پندرہ وزراء کے خلاف بدعنوانی کی تفتیش کرائے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک کابینہ کے پندرہ اہم وزراء کے خلاف تفتیش کے احکامات نہیں دیے جاتے اس وقت تک وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

اس دوران ڈاکٹروں نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے اروند کیجری وال اور ان کے دوسرے ساتھی گوپال راج کو ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مسلسل کئی روز سے غذا نہ لینے کے سبب ان افراد کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے اور پلس ریٹ گرتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں