بحلی کا بحران شدید،آدھے بھارت سے بجلی غائب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈھائی بجے بھارت کا شمالی گرڈ نیٹ ورک خراب ہو گیا

بھارت میں منگل کی بعد دوپہر بجلی مہیا کرنے والی اہم مشرقی، شمالی اور شمال مشرقی گرڈ کے ناکام ہونے سے ملک کے تقریبا نصف حصے سے بجلی غائب ہے۔

گزشتہ رات شمالی گرڈ ناکام ہوئي تھی جس سے نو ریاستیں کئی گھنٹے تک بجلی سے محروم رہیں تھیں۔اس بار شمالی گرڈ کے ساتھ ساتھ مشرقی اور شمال مشرقی گرڈ بھی ناکام ہوگئي ہیں۔

بجلی کی معطلی سے دارالحکومت دلی میں میٹرو ریل سمیت ملک کے کئی حصوں میں ریل کا نظام متاثر ہوا ہے اور کھڑی ہوئي ریل گاڑیوں سے مسافروں کو باہر نکالا جا رہا ہے۔

ملک کی تقریبا بائیس ریاستوں سے بجلی جانے کے سبب تقریبا تین سو ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے اور تمام سرکاری دفاتر میں ضروری کام متاثر ہوا ہے۔

دلی اور کولکتہ جیسے شہروں میں پاور نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک سگنلز بند پڑے ہیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگيا ہے۔ دلی کی بیشتر سڑکوں پر زبردست ٹریفک جام ہے۔

لیکن دلی ایئر پورٹ پر اس سے کام کاج متاثر نہیں ہوا کیونکہ ان کے پاس ایمرجنسی پاور سپلائی نظام ہے۔

پیر کے روز بھی شمالی بھارت کے بیشتر علاقوں میں ریل سروسز متاثر ہوئي تھیں۔ لیکن تقریبا دس گھنٹوں کے بعد پاور دوبارہ بحال کر دیا گيا تھا۔

ابھی تک حتمی طور پر یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ گرڈ کی ناکامی کی وجہ کیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق بعض ریاستیں اپنے حصے سے زیاد پاور لے رہی تھیں اسی لیے گرڈ متاثر ہوئی ہے۔

شمالی گرڈ کے جنرل مینیجر وی کے اگروال کا کہنا ہے کہ '' کہ شمالی اور مشرقی دونوں گرڈ ناکام ہوگئي ہیں۔ ہمیں انہیں دوبارہ بحال کرنے کا موقع دیں۔

حکام کے مطابق تینوں گرڈ ایک ہی وقت متاثر ہوئي ہیں۔ یہ گرڈ ملک کے نصف حصے سے بھی زیادہ حصوں تک بجلی فراہم کرتی ہیں اور تازہ اطلاعات کے مطابق ان کی ناکامی سے بائیس ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔

ملک کے شمالی علاقے میں دلی، پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، ہماچل پردیش اور مشرق میں مغربی بنگال، بہار اور جھارکھنڈ جیسی ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

بھارت میں توانائی کی شدید قلت ہے اور ملک کے بہت سے حصوں میں چھ گھنٹے بھی بجلی نہیں پہنچتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس شعبہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نہیں ہوتی اس وقت تک بجلی کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔

اسی بارے میں