کشمیر: دوران حراست ہلاکت سے حالات کشیدہ

Image caption نوجوان کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان منگل کو اُس وقت کشیدگی پھیل گئی جب بال پورہ گاؤں کے بیس سالہ عاقب بٹ کی لاش ان کے گھر پہنچائی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عاقب کو حراست کے دوران زد و کوب کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

عاقب کے والد محمد یوسف نے بتایا کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف کے کیمپ سے انہیں فون پر اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا پانی کے اُسی ٹینکر کے نیچے آکر ہلاک ہوگیا جسے وہ چلاتا تھا۔

پولیس نے عاقب کے دو ساتھیوں کو حراست میں لے کر ان کا بیان درج کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کی شب سی آر پی ایف اہلکاروں نے عاقب کو اشتعال انگیز گالیاں دیں اور جب عاقب نے ردعمل ظاہر کیا تو اسے شدید طور پر زدکوب کیا گیا۔

یہ واقعہ شمالی ضلع بانڈی پورہ میں فوج کی فائرنگ سے عام شہری کی ہلاکت کے صرف پانچ روز بعد پیش آیا ہے۔ اس ہلاکت کے خلاف شوپیان ضلع کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے ساتھ تصادم میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ ضلع کے پولیس افسر ممتاز احمد نے بتایا ’حالات قابو میں ہیں اور ہم معاملے کی تفتیش کررہے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے دیہات میں فوج اور نیم فوجی کیمپوں کے لیے اکثر نجی ٹرکوں میں پانی سپلائی ہوتا ہے۔ عاقب ایسے ہی ایک ٹرک کا ڈرائیور تھا۔

سیّاحوں کی بھاری تعداد میں کشمیر آمد کو دیکھتے ہوئے ہلاکتوں کے اس تازہ سلسلے پر مبصرین حیران ہیں لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہاں تعینات سیکورٹی ایجنسیاں پرامن حالات کو اپنے مخصوص مفادات کا خاتمہ سمجھ رہی ہیں۔

جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹیز یا سی سی ایس کے ترجمان خُرم پرویز کہتے ہیں ’ کشمیر کا تنازعہ اپنی ہیّت بدل رہا ہے، اب لوگ مسلح مزاحمت کو ترک کرکے پرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ یہ صورتحال فوج اور نیم فوجی دستوں کے لیے ایک کھلا چیلینج ہے، لہٰذا وہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔‘

خُرم پرویز نے پچھلے چند ماہ کے دوران کئی علاقوں میں توہین قران اور خانقاہوں میں آگ زنی کے واقعات کا حوالہ دے کر کہا کشمیر کے حالات کے ساتھ فوج اور دوسرے سیکورٹی اداروں کا مفاد خصوصی وابستہ ہوگیا ہے۔

دریں اثنا تازہ ہلاکتوں پر علیٰحدگی پسند خیمے میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور ہندنواز سیاسی حلقے بھی اس صورتحال کو امن کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں