محبت کرنے والوں کے لیے حکومتی پناہ گاہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت میں بہت سے نوجوان جوڑے جن کے خاندان والے اور والدین ان کے جیون ساتھی کے چناؤ سے خوش نہیں ہیں، پولیس کے زیرِ انتظام خصوصی پناہ گاہوں میں آ رہے ہیں۔

شمالی ریاست ہریانہ میں پولیس چوکی میں بیٹھی انیس سالہ لڑکی کرشنا سے جب پوچھا گیا کہ کیا بغیر اجازت دوسری ذات کے ایک شخص سے شادی کرنے کی وجہ سے اس کے گھر والے اس کے شوہر کو واقعی قتل کر دیں گے تو کہنے لگیں ’ہاں ہاں، وہ کر سکتے ہیں‘۔

’میرے گاؤں میں بندوق حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ میرے گاؤں میں تو چھوٹی چھوٹی بات پر بندوق نکلا لیتے ہیں۔ کسی کو مارنا تو مشکل نہیں‘۔

کرشنا کے گھر والوں نے اس کی شادی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کرشنا نے بائیس سالہ سونو سے جو پیشے کے اعتبار سے حجام ہیں اور نچلی ذات سے ہیں، شادی کر لی تھی جبکہ ان کے گھر والوں نے ان کی شادی ایک ایسے شخص سے طے کر رکھی تھی جس سے وہ کبھی ملی بھی نہیں۔

شارن پور کی کرشنا گزشتہ ماہ اپنے والدین کے گھر سے رات کی تاریکی میں نکلیں اور بس کے ذریعے ہمسایہ گاؤں میں سونو کے گھر پہنچ گئیں۔ اگلے روز کروسیکرا کے ایک مندر میں انہوں نے شادی کی اور جا کر عدالت سے پولیس کا تحفظ مانگا۔

عدالت نے پولیس کو اس جوڑے کو تحفظ دینے اور اسی مقصد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہوں میں رہائش مہیا کرنے کا حکم دیا۔ پچھلے سال ہریانہ میں ایسے دو سو جوڑے تھے جنہوں نے ان پناہ گاہوں کا دروازہ کھٹکٹایا۔

محبت مشکل ہی نہیں بلکہ بھارت کے بہت سے حصوں میں خطرناک بھی ہے جہاں خاندانی روابط و عزت، سرداری نظام اور ذات پات کا نطام زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

ماہرِ سماجیات پریم چودھری کا کہنا ہے کہ خواتین ہمیشہ کسی کی کفالت میں ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے والدین اور پھر شوہر، ان کی کفالت یا ان پر انحصار کے نظریات کی چھوٹی سی بھی خلاف ورزی کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ایک ہی گاؤں میں دوسری ذات یا دین والوں سے محبت کے رشتے ممنوعہ ہوتے ہیں اور ان سماجی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے کئی بار ’مجرمین‘ کو عزت کی بازیابی کے لیے قتل کر دیا جاتا ہے۔

مگر ان بندشوں کے باوجود بھارت کے دیہات اور قصبوں میں محبت کا رجحان انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سباہش اور شالو کو محبت فیس بک کے ذریعے ہوئی

تمام تر معاشرتی اختلافات اور تفریق کے باوجود بھارت کے چھوٹے علاقوں کے فیس بک اور موبائل فونوں سے لیس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں صدیوں کا سماجی احتجاج سمیٹتے ہوئے پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں محبت کر رہے ہیں۔

وہ ان قوانین سے بغاوت کر رہے ہیں جنہیں بُکر انعام یافتہ مصنف ارن دھتی رائے نے اپنی کتاب ’گاڈ آف سمال تھنگز‘ میں ’لو لاز‘ یعنی محبت کے قوانین کہ کر پکارا تھا جو کہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کس سے، کس طرح اور کتنی محبت کی جا سکتی ہے۔

ستائیس سالہ سباہش اور بائیس سالہ شالو بھارت کے بدلتے رنگوں کی بہترین مثال ہیں۔ایک سو بیس کلومیٹر دور رہنے والے، شالو انمبالہ کے ایک دکاندار کی باتونی بیٹی اور سباہش کرنال کے ایک سرکاری اہلکار کا خاموش سا بیٹا۔ جب محنت کے فرشتے کی آمد ہوئی تو شالو کمپیوٹر ایپلیکیشنز میں ایک ڈگری لے رہی تھی جبکہ سباہش مارکٹنگ پڑھ رہے تھے۔

دو سال پہلے شالو نے اپنے سستے سے نوکیا فون سے سباہش کو فیس بک پر پیغام بھیجا۔ ان کا ایک مشترکہ دوست تو تھا مگر سباہش نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی تصویر نہیں لگا رکھی تھی۔ شالو مسکراتے ہوئے کہتی ہیں ’ وہ اس قدر شرمیلے تھے کہ انہوں نے ایک بچے کی تصویر لگا رکھی تھی‘۔

تین ماہ بعد وہ انمبالہ کے چائے خانے پر ملے۔ شالو نے کہا ’ ہم خوش قسمت رہے۔ ہم پہلے دوست بنے اور پھر ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے‘۔

جب شالو کے گھر والوں کو اس رشتے کا پتا چلا تو انہوں نے اس کا فون ضبط کر لیا۔

’میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ ہم تمہاری شادی ایک امیر اور خوبصورت لڑکے سے کروا دیں گے۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے بس اپنے دوست سے ہی شادی کرنی ہے‘۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ بائیس مئی کو وہ گھر سے بھاگ جائیں گی۔ صبح وہ گھر سے امتحان دینے کے بہانے نکلیں مگر انہوں نے بس لی اور کرنال پہنچ گئیں جہاں سباہش ان کے منتظر تھے۔ دونوں نے ایک مقامی مندر میں شادی کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس پناہ گاہ کی پر سکون چار دیواری کے باہر ایک طوفان ابھی تک برپا ہے۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ شالو کے گھر والے سباہش کے گھر گئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری لڑکی واپس کی جائے۔

ایک رشتے دار نے سباہش کے گھر والوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ’اگر لڑکی واپس نہ آئی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے‘۔

ان پناہ گاہوں میں شادی شدہ زندگی کی ابتدا ایک افسوس ناک منظر ہے۔ ایک کمرے میں دو سے تین جوڑے رہتے ہیں اور بہر ایک مسلح پولیس اہلکار تعینات ہے۔ وہ لڈو کھیل کر اور ایک دوسرے کی کہانیاں سن سن کر وقت گزارتے ہیں۔ کبھی سب سے پنہاں خوشی کے چند لمحے مل ہی جاتے ہیں۔

اپنی اکیس سالہ دلہن کے ساتھ اکیس سالہ ہرجندر یہاں آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تنہائی اور جگہ کے بغیر محبت کو مشکل ہوتی ہے‘۔

پناہ گاہ سے جاتے وقت، میں نے ایک پولیس اہلکار سے پوچھا کہ ان جوڑوں کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں۔

’سب کچھ بدل رہا ہے۔ غیر ملکی ٹی وی اور موبائل فون بھارتی ثقافت کو بدل رہے ہیں۔‘ پروین کماری نے مجھے بتایا۔ ’پیار کا بھوت ہر کسی کو چڑہا ہوا ہے‘۔

اسی بارے میں