منموہن وزراء کے غیرملکی دوروں کی راہ میں حائل

منموہن سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سال دوہزار دس میں وزیر اعظم نے صرف نو درخواست مسترد کی تھیں

بھارت میں ان دنوں مرکزی وزراء کے لیے وزیراعظم منموہن سنگھ سے غیر ملکی دوروں کی اجازت لینا ایک مشکل عمل بن گیا ہے۔

گزشتہ ڈھائی برس میں منموہن تقریباً پچاس ایسی درخواستیں رد کر چکے ہیں اور ایسا مانا جاتا ہے کہ انہوں نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت ایسا کیا ہے۔

سنہ دو ہزار دس کی شروعات سے اب تک وزیر اعظم منموہن سنگھ کم از پچاس وزراء کی بیرونی ممالک کے سفر کی درخواست کو مسترد کرچکے ہیں۔

بی بی سی نے وزیراعظم کے دفتر سے مرکزی اور ریاستی وزراء کے بیرونی سفر کی تفصیلات سے متعلق دستاویزات حاصل کیے ہیں جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ دو برس میں سرکاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے کڑا رویہ اختیار کیا ہے۔

سنہ دو ہزار نو میں دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد شروعاتی دور میں وزیر اعظم نرم رویہ رکھتے تھے اور انہوں نے ساری درخواستوں میں سے صرف ایک کو نہ کہا تھا لیکن دو ہزار دس سے اب تک وہ پچاس ایسی درخواستوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مئی کے مہینے میں حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی وزراء سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے بیرونی دوروں کو کم کریں اور پیسہ بچائیں۔

اس برس جنوری سے مئی تک وزیر اعظم کے دفتر میں پچاس درخواست آئی تھیں جس میں سے انہوں نے دس رد کر دیں۔

اپریل میں ماحولیات کی وزیر جئنتی نٹراجن سویڈن جانا چاہتی تھیں لیکن انہیں وزیر اعظم کے دفتر سے جواب ملا ’وزیر اعظم کو لگتا ہے کہ انہیں اس دورے کو رد کر دینا چاہیے‘۔

اسی طرح صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر غلام نبی آزاد جب جنیوا جانا چاہتے تھے تو انہیں بھی منع کردیا گیا۔ ان سے کہا گیا ’وزیراعظم کو لگتا ہے کہ جنیوا جانا ضروری نہیں ہے‘۔

بہت سارے وزراء کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا کہ ابھی پارلیمانی سیشن جاری ہے اس لیے جانا صحیح نہیں ہے۔

اسی بارے میں