پونے میں ہوئے دھماکوں کا کوئی سراغ نہیں

پونے کے دھماکے کی بعد کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کم شدت کے دھماکے تھے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں بدھ کی شام ہونے والے چار دھماکوں کے معاملے میں ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ حالانکہ دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔

مرکزی داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ نے جمعرات کی صبح دھماکوں سے متعلق بیان میں کہا ہے ’میں اپنی باتوں پر قائم ہوں کہ پونے میں لگاتار چار دھماکے سوچے سمجھے طریقے سے کئے گئے شدت پسندانہ حملے ہوسکتے ہیں‘۔

حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کی تفتیش جاری ہے لیکن ابھی اس معاملے میں کوئی سراغ نہیں ملی ہے۔

ان دھماکوں میں سمن نامی ایک شخص زخمی ہوا تھا جنہیں بعد میں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا۔

پہلا دھماکہ ایک تھیٹر کے قریب ہوا دوسرا ایک بینک کی عمارت کے پاس اور تیسرا ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹ میک ڈانلڈ کے باہر اور چوتھا دھماکہ گروارے چوک کے قریب ہوا ہے۔

دھماکوں کے بعد پونے کے ایک سنیئر پولیس اہلکار گلاب رائے پال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان دھماکوں میں کسی شدت پسند گروپ کا ہاتھ نہیں لگتا ہے۔

انکا کہنا تھا ’دھماکوں کے بارے میں ابھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے لیکن جس طرح کے بلاسٹ ہوئے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی شدت پسند کا کام نہیں ہے۔ یہ بعض مقامی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں ڈر بٹھانا چاہتے ہیں‘۔

ایک عینی شاہد نے بتایا تھا کہ دھماکے اتنے معمولی تھے کہ وہ آواز بھی نہیں سن سکے تھے۔

دوسری جانب دھماکوں کے مقام سے کچھ دور پر سماجی کارکن انا ہزارے کی حمایت میں ہڑتال پر بیٹھے لوگوں سے پولیس نے کہا ہے کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔

اسی بارے میں