بھارت: توقع سے کم بارش، خشک سالی کا خدشہ

بھارت میں سوکھے کی فوٹو
Image caption بھارت میں اس مانسون بہت کم بارش ہوئی ہے

بھارتی حکام کے مطابق گزشتہ تین برس میں پہلی بار ملک میں خشک سالی کا خدشہ ہے۔

بھارت کے محکمۂ موسمیات کے مطابق رواں برس جون سے ستمبر کے دوران میں مون سون میں کم از کم دس فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

محکمے کے سربراہ جنرل لکشمن سنگھ راٹھور کا کہنا ہے بحرالکاہل کے اندر ’ال نینو‘ کے اثر کی وجہ سے ستمبر کے مہینے میں اوسط سے کم بارش کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش نہ کہ برابر ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں اور بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت اس وقت سست روی کا شکار ہے اور اگر اگست اور ستمبر میں بھی بارش نہیں ہوئی تو ملک کی معیشت کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس مون سون شمالی بھارت میں توقع سے کم بارش ہوئی ہے جس سے دھان کی کھیتی، سبزیوں اور دالوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے سرکردہ ماہرِ اقتصادیت ڈی کے جوشی کے حوالے سے کہا ہے ’ہمارے ملک میں پہلے ہی ایسی صورتحال ہے جہاں معیشت کی شرح ترقی میں کمی آئی ہے اور افراط زر کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں بارش نہ ہونے سے حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے‘۔

واضح رہے کہ بھارت میں آدھی سے زیادہ آبادی کھیتی باڑی پر انحصار کرتی ہے اور بارش نہ ہونے سے لوگوں کی قوت خرید تو متاثر ہوگی بلکہ پانی اور بجلی کی کمی کا بھی خدشہ ہے۔

اترپردیش کی ریاست کو ڈر ہے کہ اسے جلد ہی خشک سالی کا اعلان کرنا پڑ سکتا ہے۔

اترپردیش کے ایک کسان ضمیر احمد کا کہنا ہے کہ ’جب ایک برس بارش نہیں ہوتی ہے تو اس کا اثر کئی برس تک دکھائی دیتا ہے۔ دیکھیے اب بارش کی کمی سے دھان کی فصل متاثر ہوئی اور اب اس کے بعد گنے اور گیہوں پر بھی اثر پڑے گا۔ ہم ٹیوب ویل کے ذریعے کھیتی باڑی کر سکتے ہیں لیکن یہاں تو بجلی ہی نہیں آتی اور تیل ہم کب تک خریدیں گے‘۔

حال ہی میں شمالی بھارت کی پانچ ریاستوں میں زبردست لوڈشیڈنگ ہوئی تھی جس کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اترپردیش اور بعض ریاستوں نے پاور گرڈ سے ضرورت سے زیادہ بجلی لے لی جس سے دلی سمیت کئی ریاستیں تقریباً بارہ گھنٹے بغیر بجلی کے تھیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں کئی ریاستیں پہلی ہی خشک سالی جیسے حالات کا اعلان کر چکی ہیں اور مرکزی حکومت سے اضافی امدادی بجٹ کا مطالبہ کررہی ہیں۔

کرناٹک کی حکومت نے چوتیس ہزار مندروں کو بارش کے لیے خصوصی پوجا کرنے کے لیے پیسہ دیا تھا۔ ہر مندر کو پانچ پانچ ہزار روپے دیے گئے تھے جس کے بعد پوجا پر خرچ ہونے والی رقم سترہ کروڑ بتائی گئی تھی۔

کرناٹک حکومت کے اس قدم کی تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اتنی رقم اگر غریب کسانوں میں بانٹی ہوتی تو اسکا زیادہ اثر ہوتا۔

اسی بارے میں