اترکاشی: بادل پھٹنے سے 26 لوگوں کی موت

اترکاشی سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اترکاشی سیلاب کی زد میں ہے، اس میں جان مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں بادل پھٹنے سے بھاگیرتھی ندی میں اچانک سیلاب آ گیا جس میں جان مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔

اس واقعے میں اب تک چھبیس لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب بھی متعدد افراد لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلٰی وجے بہوگنا نے سیلاب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ’جس بڑے پیمانے پر قدرت کا یہ قہر نازل ہوا ہے اس سے نمٹنے میں وقت درکار ہے۔ اس میں کافی نقصان ہوا ہے۔ کھیت اور مویشی بہہ گئے ہیں۔ کئی عمارتیں زمیں بوس ہو گئی ہیں‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’منیری بھالی منصوبے کے دوسرے اور تیسرے دونوں مرحلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ گنگوری کا پل بہہ گیا ہے، یہاں تک کہ ‌فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تک بہہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھٹواری کے پل کو بھی نقصان پہنچا ہے‘۔

ریاست اتراکھنڈ سے بی بی سی کی نمائندہ شالنی جوشی نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے اترکاشی کا موسم خراب تھا اور رک رک کر بارش ہو رہی تھی لیکن جمع کی رات چانک بارش نے خطرناک رخ اختیار کر لیا جس کے نتیجے میں بھاگیرتھی اور اسیگنگا دونوں ندیوں میں پانی کی سطح میں کافی اضافہ ہو گیا۔

سیلاب سے لوگوں کے گھر پانے میں ڈوبنے لگے اور کئی جگہ تو لوگوں کو صبح تک اس کی خبر نہ ہو سکی۔

مقامی صحافی بلبیر نے بتایا کہ ’ کئی لاشوں کو پانی میں بہتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور اب بھی تقریباً پچاس لوگ لا پتہ ہیں اور یہاں کافی افراتفری کا ماحول ہے اور موسم ابھی بھی خراب ہے‘۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً دو ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً دو سو خاندانوں کو اسکولوں اور گڑھوال ڈویژن کے گیسٹ ہاؤس میں ٹہرایا گیا ہے۔

ریاستی پولیس دستہ پی اے سی اور بھارت تبت سرحدی فورس کے دستے امدادی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ پانی کا بہاؤ اس قدر شدید تھا کہ بچانے کی کوشش کرنے والے تین سپاہی بھی امداد فراہم کرتے ہوئے بہہ گئے۔

اس سیلاب سے گنگوتری شاہراہ بھی متاثر ہوئی ہے اور فی الحال گنگوتری اور جمنوتری کی چار دھام کی یاترا بھی معطل کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں