انّا کی ٹیم تحلیل، سیاسی متبادل کا عزم

اننا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اننا ہزارے بدعنوانی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے اپنی ٹیم تحلیل کرتے ہوئے ایک نیا سیاسی متبادل پیش کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

اپنے نئے بلاگ میں انہوں نے لکھا ہے کہ بھوک ہڑتال کا وقت ختم ہوا اور لوگوں کے لیے’ایک سیاسی متبادل‘ پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد پر مبنی ٹیم جن لوک پال کے لیے کام کر رہی تھی جسے اب تحلیل کر دیا گيا ہے اور اب وہ ٹیم نہیں رہی۔

انا ہزارے نے اپنے بلاگ میں یہ بھی لکھا کہ ’ٹیم انّا کا قیام جن لوک پال کی منظوری کے لیے کیا گیا تھا۔ ٹیم انّا نے جو کام شروع کیا تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ ٹیم انّا کی کور کمیٹی بھی اب نہیں رہی‘۔

انا ہزارے اور ان کی ٹیم میں شامل اہم ارکان نے جمعہ کے روز ہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔ بھوک ہڑتال جن لوک پال بل کی منظوری کے لیے کی گئی تھی لیکن جب ٹیم کو لگا کہ اس پر توجہ نہیں دی جارہی تو اس نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔

اس کے اختتام پر ہی انّا کی ٹیم نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ چونکہ حکومت ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دے رہی اس لیے اب وہ ایک سیاسی جماعت کے قیام پر غور کریں گے۔

لیکن انّا ہزارے نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور ان کے دیگر کارکن پارٹی تشکیل دیں گے۔

اس اعلان کے چند روز بعد ہی انا نے اپنی ٹیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا اور اب جن لوک پال کے لیے بنائی گئی ٹیم نہیں رہی۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ قیاس آرائی جاری تھی کہ انا ہزارے اور ان کے ساتھی سیاسی جماعت بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ ان کی تحریک کو اس پیمانے پر حمایت حاصل نہیں ہوئی تھی جو گزشتہ برس دیکھنے کو ملی تھی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انا ہزارے کا سیاسی متبادل کیا شکل اختیار کرے گا لیکن اس اعلان کے بعد حکومت نے راحت کی سانس لی ہوگی کیونکہ ایک مقبول عوامی تحریک کے مقابلے میں کسی بھی سیاسی چیلنج سے نمٹما اس کے لیے کہیں آسان ثابت ہوگا۔

اسی بارے میں