’وہاں ہمارا مذہب نہیں اس لیے پاکستان چھوڑ آئے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آ کر بسنے والے ہندوؤں کو بھی کم مشکلات کا سامنا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود واپس جانے کا خیال ان کے ذہن میں نہیں آتا۔

دلی کی مصروف رنگ روڈ کے قریب مجنو کےٹیلے پر بھی پانچ چھ ہندؤ کنبوں نے ایک آشرم میں اپنے خیمے گاڑ رکھے ہیں۔ ایک نئی زندگی کے آغاز میں آنے والی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’ہم جنت میں ہیں ۔۔۔ ہماری زندگی تو گئی لیکن ہم اپنے بچوں کی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں۔‘

راجہ کی عمر تقریباً تیس سال ہے اور وہ اپنی بیوی پاروتی اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں رہتے ہیں۔ دو فولڈنگ بیڈ، ایک پنکھا اور تھوڑا بہت ضرورت کا سامان، یہ ان کی زندگی کا کل سرمایہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہندوؤں کو برابری کا درجہ حاصل نہیں ہے اس لیے انہوں نے ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا۔

’وہاں ہمارا مذہب نہیں ہے اس لیے ہم پاکستان کو چھوڑ کر آئے ہیں۔۔۔وہاں بہت کٹر لوگ ہیں، ہندوؤں کو پریشان کرتے ہیں، نیچ قوم سمجھتے ہیں، ہماری لڑکیوں کی آبرو ریزی ہوتی ہے، یہاں ہم جنت میں ہیں۔‘

راجہ اور ان کے ساتھ آنے والے دوسرے نوجوان چھوٹے موٹے کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔ حکومت نے انہیں فی الحال ہندوستان میں رہنے کی اجازت تو دیدی ہے لیکن ان کے پاس مقامی دستاویزات نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں مل پاتا۔

لیکن ان کےکام کاج کرنے اور کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ لوگ پھل سبزیاں بیچتے ہیں اور ڈھائی سو تین سو روپے روزانہ کما لیتے ہیں۔

راجہ کے ساتھی کرشن کا ماننا ہے کہ بڑی تعداد میں ہندو پاکستان سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہندوستان کی حکومت ویزا جاری کرنے میں پریشان کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں لوگ اسی طرح تڑپ رہے ہیں جیسے پانی کے بغیر مچھلی ۔۔۔ وہ یہاں آکر بسنا چاہتے ہیں لیکن ویزا ملنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔‘

پاکستان میں صدر آصف علی زردای کے حکم پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سندھ میں ہندوؤں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہاں ہندوستان میں بھی پارلیمان میں کئی مرتبہ یہ مطالبہ کیا جاگیا ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کو پاکستان سے بات کرنی چاہیے۔

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، وہاں کی حکومت سے تشویش کا اظہار تو کیا گیا ہے لیکن اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔

پاکستانی ہندو اکثر یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ انہیں بھارتی حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔

لیکن مجنو کے ٹیلے پر راجہ اور ان کی اہلیہ پاروتی کو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے۔ پاروتی ابھی ہندی نہ ٹھیک سےسمجھتی ہیں اور نہ بول پاتی ہیں۔ ٹیلی فون پر اپنے والدین سے بات کرتی رہتی ہیں جو ابھی حیدرآباد میں ہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ بھی آنا چاہتے ہیں لیکن ویزے کا مسئلہ ہے ۔۔۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اچھی جگہ ہے، یہیں آجاؤ ۔۔۔ ماں باپ ہیں ان کی یاد تو آتی ہے۔۔۔‘

لیکن ہر سوال کے جواب میں جس انداز میں وہ کھل کر ہنستی ہیں، ایسا نہیں لگتا کہ واپس جانے کا خیال کبھی ان کے ذہن میں آتا ہوگا۔

اسی بارے میں