ممتا بینرجی کو سرِعام نکتہ چینی پسند نہیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 12 اگست 2012 ,‭ 09:21 GMT 14:21 PST
ممتا بینرجی

مغربی بنگل کی وزیر اعلی کو نکتہ چینی پسند نہیں ہے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں پولیس نے دیہی علاقے کے ایک کسان شلدتیہ چودھری کو وزیرِاعلیٰ کے عام جلسہ میں رخنہ ڈالنے اور پولیس کو اپنی ڈیوٹی نہ کرنے دینے کے الزام میں گرفتاری کے بعد انہیں چودہ روز کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

اس سے پہلے اس کسان نے وزیرِاعلیٰ ممتا بینرجی کے عام جلسے میں ان سے براہِ راست سوال پوچھا تھا۔

کولکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹّہ شالی کے مطابق وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی بھارت میں جاری ماؤ تحریک کے اثر رسوخ والے علاقے بیل پہاڑی میں ایک عام جلسہ سے خطاب کر رہی تھیں جب شلدتیہ چودھری نے اُٹھ کر وزیراعلیٰ سے پوچھا ’آپ نے غریب کاشتکاروں کے لیے کیا ہے؟ صرف کھوکھلے وعدے نہیں چلیں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے اس کسان کو ’ماؤ نواز‘ قرار دیتے ہوئے پولیس کو اسے باہر لے جانے کا حکم دیا۔

اس حکم کے بعد اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیراعلی نے کہا ’وہ ایک ماؤ نواز تھا، میں انہیں اچھی طرح جانتی ہوں، دیکھا آپ نے میں نے کیسے اسے رنگے ہاتھوں اسے پکڑ لیا۔‘

اس واقعے کے بعد پولیس نے جب معاملے کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ چودھری کا ماؤ باغیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جس پر انہیں رہا کر دیا گيا۔

لیکن اس کے ایک روز بعد ہی پولیس نے چودھری کو ان کے گھر سے ایک عام جلسہ میں رخنہ ڈالنے اور پولیس کو اپنی ڈیوٹی نہ کرنے دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ عدالت میں پیش ہونے کے بعد اب وہ چودہ روز کی عدالتی تحویل میں بھیج دیے گئے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس گرفتاری کے حوالے سے بہت سے تذکرے ہو رہے ہیں کہ آخر بنگال کی وزیراعلیٰ اپنے آپ پر نکتہ چينی کو برداشت کیوں نہیں کرتیں۔

مغربی بنگال کی وزیراعلی اس طرح سوال کے پوچھنے پر کئی بار ناراضگي ظاہر کر چگی ہیں

یہ پہلا موقع نہیں جب مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ اس طرح سوال کے پوچھے جانے سے ناراض ہوئي ہوں۔

حال ہی میں ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران جادھو پور یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم نے جب ریاست کے امن و قانون کی صورت حال سے متعلق اسی طرح کا ایک سوال پوچھا تو وزیراعلیٰ بغیر جواب دیے انٹرویو چھوڑ کر چلی گئیں۔

اس وقت بھی محترمہ بینرجی نے اس طالب علم کو ماؤ نواز قرار دیا تھا اور پولیس نے اس طالب علم کے خلاف چھان بین شروع کر دی تھی۔

ایک ماہ قبل ان پر تنقید کرنے کے باعث کولکتہ کے ایک پروفیسر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پروفیسر نے فیس بک پر ان کے بعض مزاحیہ کارٹون کسی دوست کے ساتھ شیئر کیے تھے۔

کولکتہ میں سرکاری دفاتر اور خاص طور پر وزیر اعلی کے دفتر کے آس پاس صحافیوں کے آنے جانے پر پابندی عائد ہے۔ صحافی برادری کو ممتا بینرجی کے اس طرز پر کافی تشویش ہے اور کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

مغربی بنگال میں تقریبا پینتیس برس کے بائیں بازو کے اقتدار کے بعد ممتا بینرجی نے حکومت سنبھالی تھی جس سے کافی امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن ان کے اس رویہ پر اب شدید نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔