’عدلیہ کی آزادی کو زک نہیں پہنچنی چاہیے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 18:11 GMT 23:11 PST

جسٹس کپاڈیہ نے دلی کی سپریم کورٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کی جوابدہی کے لیے ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس سے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچتی ہو ۔

بھارت کے چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت عدلیہ کی جوابدہی کا بل عجلت میں وضع نہ کرے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی کے آئینی فلسفے کو چوٹ پہنچ سکتی ہے ۔

جسٹس کپاڈیہ نے دلی کی سپریم کورٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کی جوابدہی کے لیے ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس سے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچتی ہو ۔

جسٹس کپاڈیہ نے کہا کہ جج جضرات جوابدہی کے قانون کے حق میں ہیں لیکن اس قانون سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے ۔

’ججوں کو جوابدہ بنانے کے لیے حکومت قانون بنا سکتی ہے ۔ ہم اس قانون سے خوف نہیں کھاتے ۔لیکن اس سے عدلیہ کی آزادی کا آئینی اصول نہیں مجروح ہونا چاہئیے‘ ۔

چیف جسٹس ’عدالتی معیاراور جوابدہی بل‘ کا ذکر کر رہے تھے جو لوک سبھا میں منظور کیا جا چکا ہے اور ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں منظوری کے لیے زیر غور ہے ۔

اس بل کی ایک شق پر ججوں اور ماہرین قانون کی طرف سے تشویش ظاہر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے ’کوئی بھی جج کھلی عدالت میں مقدمات کی سماعت کے دوران کسی بھی آئینی ، قانونی ادارے یا اہلکار کے خلاف کوئی غیر ضروری مشاہدہ نہیں کرے گا‘۔

"’ججوں کو جوابدہ بنانے کے لیے حکومت قانون بنا سکتی ہے ۔ ہم اس قانون سے خوف نہیں کھاتے ۔لیکن اس سے عدلیہ کی آزادی کا آئینی اصول نہیں مجروح ہونا چاہئیے‘ ۔"

جسٹس اے ایس کپاڈیہ

ججوں کا کہنا ہے کہ اس شق سے کھلی عدالت میں حکومت اور اہلکاروں کے خلاف تبصرہ اورمشاہدہ کرنے کی ججوں کی آزادی ختم ہو جائے گی ۔

اس بل میں شہریون کے ذریعے بدعنوان ججون کے خلاف شکایات درج کرنے کی تجویز بھی ہے ۔

جسٹس کپاڈیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئین میں کسی طرح کی ترمیم سے پہلے بہت مفصل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جج کئی بار انصاف دینے کے عمل میں اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اور ایسے فیصلے دے دیتے ہیں جن سے مملکت کی تینوں شاخوں کا آئینی توازن متاثر ہوتا ہے ۔

جسٹس کپاڈیہ نے زور دے کرکہا ایسی کوئی شعوری قدم نہیں اٹھانا چاہیئے جس سے اس توازن پر اثر پڑے کیونکہ عدلیہ، ‏عاملہ اور مقننہ کے درمیان اختیاارات کے توازن میں کسی طرح کی تبدیلی سے آئین کو دائمی نقصان پہنچے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔