گم شدہ بچے، سپریم کورٹ کا حکومت کو نوٹس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 12:04 GMT 17:04 PST

بھارت میں ہر برس ہزاروں بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے جن کا پتہ نہیں چل پتہ

بھارت کی سپریم کورٹ نے ملک کے تقریبا پچپن ہزار گم شدہ بچوں کی بازیابی کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ملک بھر میں گم شدہ بچوں سے متعلق مفاد عامہ کی ایک عرضی پر سماعت کے بعد یہ نوٹس جاری کیا۔

جسٹس آفتاب عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے پوچھا کہ گم شدہ بچوں کی دستیابی کے لیے کیا کوششیں کی گئی ہیں۔

مفاد عامہ کی عرضی ایک سرکردہ وکیل سروا مترا نے دائر کی تھی۔ مسٹر مترا نے اپنی عرضی میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی پولیس غائب ہونے والے بچوں کا پتہ کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔

اپنی عرضی میں انہوں کہا ہے ’ کئی دفعہ گم ہونے والے بچوں کے بازو اور پیر کاٹ دیے جاتے ہیں، کئی بار ان کی آنکھیں یا جسم کے دیگر اعضاء نکال لیے جاتے ہیں، نتیجتاً وہ ایک ایسی بری زندگي گزارتے ہیں جو انہیں جسم فروشی یا بھیک مانگنے مجبور کرتی ہے۔‘

"کئی دفعہ گم ہونے والے بچوں کے بازو اور پیر کاٹ دیے جاتے ہیں، کئی بار ان کی آنکھیں یا جسم کے دیگر اعضاء نکال لیے جاتے ہیں، نتیجتاً وہ ایک ایسی بری زندگي گزارتے ہیں جو انہیں جسم فروشی یا بھیک مانگنے مجبور کرتی ہے۔"

سروا مترا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ’ریاستی پولیس بچوں کے اغواء جیسے معاملات کی تفتیش اور ان کا پتہ لگانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے جو کہ ان معصوم بچوں کی آزادی اور ان کے جینے کے حق کو چھیننے کے مترادف ہے۔‘

سپریم کورٹ میں داخل کی گئي مفاد عامہ کی عرضی میں بچوں کے اغوا سے متعلق جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اس کے مطابق منظم گروپوں کی جانب سے تقریباً پچپن ہزار بچوں کا اغوا کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے بچوں کو سمگل کیا جاتا ہے اور جسم فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کم عمر کے بچوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور جنسی استحصال ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔