کانوں کی نیلامی، پارلیمان میں ہنگامہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 11:47 GMT 16:47 PST
کوئلے کی کانیں

کوئلے کی کانوں کی الاٹمنٹ کے وقت کوئلے کا قلمدان وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے پاس تھا

بھارت میں کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے منگل کو پارلیمان میں ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی بدھ تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

یہ ہنگامہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی اس پر رپورٹ پر کیا جا رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیلامی کے بغیر کوئلے کی کانیں حاصل ہونے سے بھارت میں نجی کمپنیوں کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہونے کا امکان ہے اور یہ سرکاری خزانے کو نقصان کے مترادف ہے۔

کوئلے کی صنعت پر سی اے جی کی رپورٹ جمعہ کو پارلیمان میں پیش کی گئی تھی لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سی اے جی نے جو طریقۂ کار اختیار کیا ہے اس وہ متفق نہیں ہے۔

عید کی تعطیل کے بعد جیسے ہی منگل کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی، حزب اختلاف کے اراکین وزیر اعظم من موہن سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے بیچوں بیچ پہنچ گئے۔

بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ بائیں بازو کی جماعتیں چاہتی ہیں کہ سی اے جی کی رپورٹوں پر وزیر اعظم حکومت کا موقف واضح کریں۔

سن دو ہزار چھ اور دو ہزار نو کے درمیان جب یہ کانیں الاٹ کی گئی تھیں تو کوئلے کا قلمدان خود وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پاس تھا۔

سی اے جی کا کہنا ہے کہ اگر نیلامی کا طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہوتا تو جو فائدہ نجی کمپنیوں کو ہو رہا ہے اس کا ایک حصہ سرکاری خزانے میں بھی جاتا۔

حکومت کا موقف ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ کا پہلے پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جائزہ لےگی اور اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے لیکن راجیہ سبھا میں بی جے پی کے نائب سربراہ روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جس کے لیے پی اے سی کا انتظار کیا جا سکے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اس تنازعہ سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی اور فی الحال لگتا نہیں ہے کہ پارلیمان کی کارروائی عنقریب شروع ہو پائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نہ صرف سی اے جی کے اخذ کردہ نتائج کو مسترد کر رہی ہے بلکہ اس کا اصرار ہے کہ پارلیمانی ضابطوں کے مطابق رپورٹ پہلے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیجی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔