بھارت: اپوزیشن وزیر اعظم کے استعفے پر مصر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 08:28 GMT 13:28 PST
بھارتی پارلیمان

اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے سبب پارلیمان کا اجلاس نہیں چل سکا

بھارت میں حزب اختلاف کوئلے کی کانوں کی فروخت میں مبینہ بد انتظامی کے لیے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پارلیمان میں بدھ کو اس مسئلے پر حزب اختلاف نے ہنگامہ کیا جس کے سبب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ایک بار پھر نہیں چل سکی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کوئلے کی کانوں کے مبینہ گھپلے پر ایوان میں بحث کے لیے تیار ہے۔ لیکن حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس پر بحث بے معنی ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حکومت نے کوئلے کی کانوں کے مختلف بلاکس نجی کمپنیوں کو انتہائی سستی قیمتوں پر دیے جس کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 35 ارب ڈالر کا نفصان ہوا ہے۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ کوئلے کی کانوں کے اس گھپلے کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ براہ راست ذمے دار ہیں اور جب تک وہ مستعفی نہیں ہوتے تب تک پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔

"آٹھ برس کے اقتدار میں پانچ برس تک وزیر اعظم خود کوئیلے کے وزیر رہے اور یہ گھپلہ انہیں کی مدت میں ہوا ہے 2 جی گھپلے ميں ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ کو مستعفی ہونا پڑا تھا تو اس معاملے میں وزیر اعظم کو مستعفی ہونا چاہئے۔"

ان کا کہنا تھا ’آٹھ برس کے اقتدار میں پانچ برس تک وزیر اعظم خود کوئلے کے وزیر رہے اور یہ گھپلا انہیں کی مدت میں ہوا ہے۔ ٹو جی گھپلے ميں ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ کو مستعفی ہونا پڑا تھا تو اس معاملے میں وزیر اعظم کو مستعفی ہونا چاہیے۔‘

جیٹلی نے کہا ’ٹو جی گھپلے کے معاملے میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ بحث سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جب اس گھپلے کے سارے حقائق سامنے ہیں تو بحث کس بات پر کرنی۔‘

پارلمینٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی منگل کو بھی نہیں چل سکی تھی اور بدھ کو بھی دوپہر تک کے لیے ملتوی کی جا چکی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعطل ختم ہونے کے فوری طور پر کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

بد عنوانی کے پے درپے الزامات کے نتیجے میں حکمراں کانگریس اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی یہ محسوس کر رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں تعطل جاری رکھنے سے اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔