انٹرنیٹ کی آزادی، امریکہ کی بھارت پر نظر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 12:07 GMT 17:07 PST
وکٹوریہ نولینڈ

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق اوریکہ بھارت کی تفتیش کی منتظر ہے

انٹرنیٹ پر اشتعال انگیز مواد کے بہانے بھارتی حکومت کے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت چند ویب صفحات پر پابندی عائد کرنے کے بعد امریکہ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا خیال رکھے۔

امریکہ میں وزارت داخلہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی اس معاملے کی تفتیش کر رہا ہے اور امریکہ کی نگاہیں اسی تفتیش پر لگی ہوئی ہیں۔

بھارت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اور مختلف بلاگز میں اشتعال انگیز مواد ڈالنے کے سبب حال ہی میں تقریبا ڈھائی سو ویب صفحات کو بلاک کردیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی ریاست آسام میں فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے انٹرنیٹ کے بہت سے صفحات پر طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں جس سے ان ریاستوں کے باشندے ملک کے دیگر حصوں سے اپنی ریاستوں کی طرف لوٹنے لگے۔

حکومت نے ایسے تقریباً ڈھائی سو صفحات پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دیےگئے ہیں۔

ویب سائٹ صفحات پر لگی پابندی کے تعلق سے ایک پریس کانفرنس میں وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ’ہم ہمیشہ سے ہی انٹرنیٹ کی آزادی کے حق میں ہیں۔ بھارتی حکومت اس پورے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس دوران ہم وہاں کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بنیادی حقوق، قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے فرائض انجام دیتی رہے۔‘

"ہم ہمیشہ سے ہی انٹرنیٹ کے آزادی کے حق میں ہیں۔ بھارتی حکومت اس پورے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس دوران ہم وہاں کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بنیادی حقوق، قانون اور انسانی حقوق کے تئیں اپنے فرائض انجام دیتی رہے۔"

وکٹوریہ نولینڈ

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آ‎سام میں بوڈو قبائیلیوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات کے بعد زبردست کشیدگی ہے۔ انٹرنیٹ پر بھی شمال مشرقی ریاستوں کے باشندوں کے خلاف نفرت انگیز پیغامات کی تشہیر ہوئی جس سے حالات مزید خراب ہوگئے۔

بعد میں پتہ چلا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایسی کارروائیاں بیرونی ممالک سے انجام دی جا رہی ہیں۔ جن صفحات یا ویب سائٹ پر پابندی لگائی گئی ہے ان کا تعلق امریکی کمپنیوں سے ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا امریکی کمپنی فیس بک اور ٹوئٹر بھی اس کا ایک حصہ ہیں۔

لیکن جب وکٹوریا نولینڈ سے وکی لیکس کی آزادی کے متعلق سوال کیا گيا کہ تو انہوں نے کہا وہ الگ معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’وکی لیکس کے معاملے کا انٹرنیٹ کی آزادی سے لینا دینا نہیں ہے۔ وکی لیکس امریکی حکومت کے خفیہ راز افشاں کر رہا تھا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔