آسام میں تشدد کے تازہ واقعات، ایک ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 07:01 GMT 12:01 PST

تشدد سے متاثرہ لاکھوں افراد کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کے تازہ واقعات میں ایک شخص ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تشدد کے تازہ واقعات کوکرا جھار ضلع میں پیش آئے ہیں۔ پہلے واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا اور چار افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔ دوسرے واقعے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

ریاست آسام میں بوڈو قبائیلیوں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے فرقہ وارنہ تشدد جاری ہیں جس میں اب تک تقریبا نوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

چند روز قبل الفا باغیوں نے آسام سے باہر مقیم آسامی باشندوں پر ’مظالم‘ نہ رکنے کی صورت میں ریاست میں رہائش پذیر غیر آسامی آبادی پر حملوں کی دھمکی دی تھی تب سے کئی بار حملے ہوچکے ہیں۔

لڑائی کے باعث تقریباً چار لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلےگئے ہیں اور خوف کے سبب بیشتر افراد نے اب بھی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

آسام کے مختلف علاقوں میں مقامی بوڈو قبائیلیوں اور مسلمانوں کے درمیان برسوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور دو نوں برادریوں میں کئی بار فسادات ہو چکے ہیں۔

فسادات سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں فوج تعینات ہے اور کرفیو بھی نافذ ہے لیکن تشدد پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

چند روز قبل پولیس نے تشدد پھیلانے کے الزام میں بوڈو رہنما اور رکن اسمبلی پردیپ برما کو گرفتار کیا تھا۔ ان کا تعلق بوڈو طلباء یونین سے رہا ہے۔

تشدد سے سب سے زیادہ کوکراجھار، چرانگ اور دھبری اضلاع متاثر ہوئے ہیں جہاں مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔