کانگریس اور بی جے پی میں لفظی جنگ

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 07:13 GMT 12:13 PST
سونیا گاندھی

سونیا گاندھی نے حکومت کے فیصلوں کے دفاع کے لیے کمر کس لی ہے

بھارت میں سیاسی جماعت کانگریس کی صدر اور حکمراں یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر بلیک میل کی سیاست کرنے اور پارلیمان کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا ہے۔

کانگریس کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا ’سیاسی بلیک میلنگ بی جے پی کی روزی روٹی بن گئی ہے اور پارٹی پارلیمان کا احترام نہیں کرتی۔‘

حکمراں یو پی اے اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ کے سوال پر محاذ آرائی جاری ہے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی ہے۔

بی جے پی کا مطالبہ ہے کہ کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ میں اربوں ڈالر کے مبینہ نقصان کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مسٹر منموہن سنگھ کو مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ جب کوئلے کی کانیں بغیر نیلامی کے الاٹ کی جارہی تھیں تو کوئلے کی وزارت خود انہیں کے پاس تھی۔

لیکن حکومت اس مطالبےکو یکسر مسترد کرچکی ہے۔ پیر کو وزیر اعظم نے حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا ہے اس میں بہت سی خامیاں ہیں۔

"بی جے پی ملک کے عوام کا مزاق اڑا رہی ہے اور اس کے الزامات کا پوری شدت سے جواب دیا جانا چاہیے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہماری حکومت کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔"

وزیر اعظم ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کی شام تہران کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

سونیا گاندھی نے پارٹی کے اراکین پارلیمان سے کہا کہ بی جے پی ملک کے عوام کا مزاق اڑا رہی ہے اور اس کے الزامات کا پوری شدت سے جواب دیا جانا چاہیے۔ ’ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہماری حکومت کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔‘

پیر کی شام لوک سبھا میں بی جے پی کی لیڈر سشما سواراج نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کوئلے کی بیش قیمت کانیں بغیر نیلامی کے الاٹ کرنے کے عوض کانگریس کو’موٹا مال‘ ملا ہے۔ سشما سوراج کے اس الزام کے بعد دونوں پارٹیوں میں لفظوں کی جنگ تیز ہوگئی ہے۔

اب اس بحران کا عنقریب کوئی حل نکلتا نظر نہیں آتا اور ممکن ہے کہ ہفتے کے اواخر میں پارلیمان کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔