ایران سے تعلقات میں مزید بہتری کی امید: بھارت

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 08:39 GMT 13:39 PST
ایس ایم کرشنا

بھارتی وزیر خارجہ منموہن سنگھ سے پہلے تہران پہنچے ہیں

تہران میں غیر وابستہ تحریک کے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے بھارت ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بہتر کرنا چاہتا ہے۔

اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل بھارتی وزیر خارجہ پیر کو ایران پہنچے اور کہا کہ بھارت ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید بہتر کریگا۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کی شام کو تہران کے لیے روانہ ہوں گے۔

امریکہ سمیت بعض دیگر مغربی ممالک، جنہوں نے پہلے ہی سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، بھارت پر ایران سے معاشی روابط کم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں اور اس پس منظر میں بھارت کا یہ موقف بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ اترنے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ غیر وابستہ تحریک کے بانیوں میں سے ہونے کی حیثیت بھارت ایران کے ساتھ تعلقات مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا ’بھارت اور ایران میں پرانے دوستانہ تعلقات ہیں اور دلی کو توقع ہے کہ دو طرفہ تعاون میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر معاشی سطح پر۔‘

"بھارت اور ایران میں پرانے دوستانہ رشتے ہیں اور دلی کو توقع ہے کہ دو طرفہ تعاون میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر معاشی سطح پر۔"

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور ان کے ایرانی ہم منصب علی اکبر صلاحی کے درمیان کئی امور پر بات چیت ہوئی ہے جس میں اقتصادی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

بھارت ایران میں چبہار نامی بندرگاہ بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے جو منصوبہ پیش کیا تھا ایران نے اسے تسلیم کرلیا ہے۔ اس مجوزہ بندر گاہ کی تیاری کے بعد بھارت کو افغانستان کے لیے براہ راست راستہ مل جائیگا اور پاکستان پر اس کا انحصار نہیں رہے گا۔

لیکن بھارت چاہتا ہے کہ اس بندر گاہ میں افغانستان کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ افغانی تاجروں کو ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے اس بندر گاہ کی پیچیدگیوں پر بھی بات کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے اگر ایران، بھارت اور افغانستان مل کر اس بندر گاہ کو بنائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

بھارت اپنی توانائي کی ضروریات کے لیے سب سے زیادہ تیل ایران سے خریدتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے باوجود اس میں ابھی تک کوئي کمی نہیں آئی ہے۔

بھارت کا موقف ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف عائد پابندیوں پر عمل کریگا لیکن انفرادی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کے وہ جواب دہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔