’اطمینان تب جب پھانسی کے پھندے پر دیکھوں گی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 09:11 GMT 14:11 PST
ممبئی حملے

ممبئی حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے ممبئی حملوں کے مجرم اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کے فیصلے پر ان حملوں کے متاثرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

بیشتر متاثرین کا کہنا ہے کہ قصاب کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکایا جائے۔

ہیما ٹھنکی حملوں کی رات اپنے خاوند اور اپنے بیٹے کے ساتھ تاج محل ہوٹل میں کھانا کھانے گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’عدالت کا فیصلہ سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اصل اطمینان تب ہوگا جب اسے پھانسی پر لٹکے ہوئے دیکھوں گی‘۔

تاج ہوٹل پر جس وقت حملے ہوئے ہیما ٹھنکی، انکے بیٹے اور خاوند ہوٹل میں موجود تھے۔ حملوں کی رات تینوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے اور حملہ آوروں کی گولیوں سے بچنے کے لیے ہوٹل میں چھپ گئے تھے۔ حالانکہ ہیما ٹھنکی کے دیگر دوست جو ان کے ساتھ کھانا کھانے گئے تھے گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔

ہیما ٹھنکی بتاتی ہیں ’جس وقت حملہ شروع ہوا ہم لوگ تاج محل کے شامینہ ریستوران میں کھانا کھارہے تھے ۔ ہم سبھی لوگ میز کے نیچے چھپ گئے۔ ہماری قریبی ایک میز پر بیٹھے لوگوں کو گولیاں لگی اور وہ مر گئے‘۔

زندہ بچ جانے کے بعد ہیما ٹھنکی اور ان کے خاوند اپنے بیٹے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔ وہ حملے سے کچھ دیر پہلے ہی غسل خانے گئے تھے۔ وہ اگلے دن اپنے والدین سے ملے۔

ہیما ٹھنکی کہتی ہیں ’ہمیں ایک نئی زندگی ملی۔ لیکن قصاب اور ان کے ساتھیوں نے کتنے لوگوں کو مارا۔ کتنا جانی اور مالی نقصان کیا۔ اسے فورا پھانسی دی جائے‘۔

"مجھ سمیت میرے خاندان کے چھ افراد کو گولیاں لگیں۔ آج بھی ہم اس رات کو بھول نہیں پائے ہیں۔ صرف قصاب کو پھانسی دینا کافی نہیں ہے۔ اس حملے میں شامل سبھی افراد کو پھانسی دی جانی چاہیے"

ہیما ٹھنکی

سلیم پیشے سے باورچی ہیں۔ چھبیس نومبر یعنی ممبئی حملوں کی رات اپنے گھروالوں کے ساتھ باہر نکلے ہوئے تھے۔ ان پر اچانک گولیاں برسنے لگی۔ ’مجھ سمیت میرے خاندان کے چھ افراد کو گولیاں لگیں۔ آج بھی ہم اس رات کو بھول نہیں پائے ہیں۔ صرف قصاب کو پھانسی دینا کافی نہیں ہے۔ اس حملے میں شامل سبھی افراد کو پھانسی دی جانی چاہیے۔‘

جنوبی ممبئی ایک ریستوران میں دو بھائی ویٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ حملوں میں ایک بھائی ہلاک ہوگیا اور ایک کسی طرح بچ گیا۔ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجانے والا بھائی اپنے اور اپنے بھائی کے بیوی بچوں کی ذمہ داری نہیں سنبھال پایا اور حملوں کے ایک برس بعد دل کا دورا پڑنے سے اتنقال ہوگیا۔ ان کے خاندان والے کہتے ہیں ’قصاب کو فورا پھانسی دی جانی چاہیے۔ انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اب اسے پھانسی پر لٹکا دینا ہی صحیح ہے۔‘

قصاب چاہیں تو صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہیما ٹھنکی صدر پرنب مکھرجی کو ایک پیغام دینا چاہتی ہیں: ’جب قصاب کا معاملہ آپ (یعنی صدر) کے پاس جائے تو ہم لوگوں کی پریشانیوں اور جانی نقصان کو دھیان میں رکھیے گا۔ اس پر رحم کرنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا تو ہوگئی ہے لیکن ایک سوال اب یہ بھی اٹھ رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔