پاکستان کے دورے کے لیے مناسب ماحول ہونا ضروری

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 اگست 2012 ,‭ 12:36 GMT 17:36 PST
منموہن سنگھ

منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو سچی کوششیں کرنی چاہیے

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ’مناسب ماحول‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

مسٹرمن موہن سنگھ نے یہ بات اپنے خصوصی طیارے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کے بعد تہران سے دلی واپس آ رہے تھے جہاں انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔

صدر زرداری نے اپریل میں بھارتی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا تھا۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’ میں نے تہران میں صدر زرداری سے کہا کہ ہمیں مناسب ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے بھارت کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرسکتا ہے وہ کر رہا ہے۔۔۔اور اس ضمن میں کسوٹی یہ ہوگی کہ پاکستان ممبئی پر حملے لیے ذمہ دار لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کتنی سنجیدگی سے کارروائی کرتا ہے۔'

تہران میں بھارت کے خارجہ سکریٹری رنجن مٹھائی نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے پاکستان کے ایک عدالتی کمیشن کو دوبارہ ہندوستان آنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تاکہ وہ گواہوں سے جرح بھی کرسکے بشرطیکہ بھارتی قوانین میں اس کی اجازت ہو۔ ان کے مطابق اس بارے میں بھارتی وزارت داخلہ کا موقف معلوم کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق صدر زرداری اور پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان سےکہا کہ عدالتی عمل کے دائرے میں رہتے ہوئے وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔

تہران میں مسٹر مٹھائی نے بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ان کا دورہ ’پوری تیاری’ کے بعد ہی ہو۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ان تنازعات کو حل کرنے کےلیے پیش قدمی کرنی چاہیے جن میں تصفیہ کی گنجائش ہے۔

انکا کہنا تھا ’میں نے صدر زراداری سے کہا کہ جب آپ اجمیر جانے کے لیے دلی آئے تھے تو آپ نے کہا تھا کہ سرکریک جیسے تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے۔ تو ہمیں ان تنازعات کو حل کرنے کی راہ میں آگے بڑھنا چاہیے اور اس دوران دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ اپنی ملاقات میں اس بات کا جائزہ لےسکتے ہیں کہ میرے بامقصد دورہ پاکستان کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا پیش رفت کی جاسکتی ہے۔'

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سات ستمبر کو پاکستان جانے والے ہیں جہاں وہ اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ باہمی مذاکرات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔