’کرناٹک میں گرفتاریوں سے بڑا خطرہ ٹل گیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 13:16 GMT 18:16 PST
حیدرآباد میں پولیس

حیدرآباد سے بھی بعض مسلم نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے

بھارت کے داخلہ سیکرٹری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے الزام میں جنوبی ریاست کرناٹک سے گرفتار کیے جانےوالے نوجوانوں کے نشانے پر ایک جوہری تنصیب بھی تھی اور ان کی گرفتاری سے ایک بڑا خطرہ ٹل گیا ہے۔

داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ نے سنیچر کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی ایک بڑی کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا ہے کہ ان کے نشانے پر ایک دفاعی اور ایک جوہری تنصیب بھی تھی۔

داخلہ سیکرٹری نے یہ بھی کہا کہ اس مبینہ ماڈیول کا تعلق حرکت جہاد الاسلامی سے ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جوہری تنصیب کو کس طرح کا خطرہ لاحق تھا اور جو بھی منصوبہ بندی کی جارہی تھی وہ کس مرحلے میں تھی۔

جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور سے گیارہ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور اسے کے بعد سےمہاراشٹر اور آندھرا پردیش سے بھی کچھ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ ان نوجوانوں کا تعلق لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد الاسلامی سے ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انسداد دہشت گردی دستے کے سربراہ راکیش ماریا نے مہاراشٹر کے ناندیڑ علاقے سے چار لوگوں کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے لیکن انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

بنگلور کے پولیس کمشنر جیوتی پرکاش مرجی کےمطابق یہ لوگ کچھ مقامی ہندو رہنماؤں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہےتھے تاکہ مذہبی منافرت پھیلائی جاسکے اور یہ کہ ان کے خیال میں گرفتار شدہ افراد کے ہینڈلر سعودی عرب میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور پولیس کو بہت احتیاط سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں جو معلومات ملے گی پہلے ہمیں اس کی تصدیق کرنی ہوگی اور اس کے ثبوت حاصل کرنے ہوں گے۔

بنگلور کی پولیس نے جمعرات کو جن گیارہ افراد کو گرفتار کیا تھا ان میں ایک صحافی اور بھارت میں دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کا انجینیر بھی شامل ہے۔ ان سبھی کوایک عدالت نے چودہ دن کے لیے پولیس کی ریمانڈ میں دے دیا تھا۔

تاہم گرفتار شدہ لوگوں کے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ ان نوجوانوں کو بے وجہ ہراساں کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔