سر سے جڑی بہنوں کو امداد دینے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 11:46 GMT 16:46 PST
صبا اور فرح جڑواں بہن

بہار کی جڑواں بہن صبا اور فرح جدا نہیں ہونا چاہتی ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے پیدائشی طور پر سر سے جڑی ہوئی جڑواں بہنوں کے مستقبل کے بارے میں نوٹس لیتے ہوئے حکومت بہار سے کہا ہے کہ ان کو ضروری امداد فراہم کی جائے۔

بی بی سی کے ونیت کھرے بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ان دونوں جڑواں بہن صبا اور فرح کے گھر گئے اور ان سے بات کی۔

عدالت عظمی نے کہا ہے کہ انہیں دہلی کے ہسپتال میں لا کر ان کا مناسب علاج کرایا جائے لیکن پندرہ سالہ صبا اور فرح کے خاندان والوں نے ان کو علیحدہ کیے جانے والے آپریشن سے منع کر دیا ہے کیونکہ اس سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

وینیت کھرے نے بتایا کہ جب وہ ان کے گھر گئے تو دونوں بہنوں نے چارپائی پر انہیں بغیر کسی تاثر کے باری باری دیکھا کیونکہ وہ سر سے جڑی ہوئی ہونے کے سبب ایک ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔

ان دونوں بہنوں کی والدہ ربیعہ خاتون نے بہرحال انہیں جلدی کرنے کی تاکید کی کیونکہ وہ اس طرح کے عمل سے پریشان نظر آئیں۔

دس افراد پر مشتمل اس خاندان کے حالات اچھے نہیں ہیں انہیں مالی امداد نہیں مل پارہی ہے اور دونوں بہنوں کی صحت بھی دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ان کے والد شکیل احمد چائے کی دکان چلاتے جس سے کنبے کی گذر بسر ہوتی ہے۔ ان کا گھر پہلی منزل پر دو کمروں پر مشتمل ہے اور چھت پر ٹین کی چادر رکھی ہوئی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں بہنوں کا معاملہ پیچیدہ ہے ان کی ایک نس مشترک ہے جو ان کے دلوں تک خون لے جاتی ہے۔ فرح کے پاس دو گردے ہیں جبکہ صبا کے پاس کوئی گردہ نہیں ہے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا مستقبل انتہائی تاریک ہے۔

پیشکش

"سنہ دوہزار پانچ میں ابوظہبی کے ایک امیر نے جب ریاست بہار کی ان بچیوں کے بارے میں ایک مقامی اخبارمیں پڑھا تو انہوں نے ان کا علاج کروانے کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن دونوں بہنوں کے والدین نے اسی وجہ سے ان کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔"

وینیت کا کہنا ہے کہ دونوں بہنیں بیزار دکھائی دیتی تھیں اور جلد از جلد رخصت چاہتی تھیں۔ ان کے پندرہ سال کیسے گذرے کا جواب دیتے ہوئے صبا نے کہا ’ہم سارا دن اسی جگہ بیٹھ کر گذار دیتے ہیں۔ ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔ہم مجبور ہیں‘

’پہلے ہم بالٹی میں پانی بھر لیتے تھے، غسل بھی کر لیتے تھے اور گھر کے کچھ کام بھی کر لیتے تھے لیکن اب کچھ نہیں ہو پاتا۔‘

دونوں میں نسبتاً زیادہ کمزور فرح نے کہا کہ ’سارا دن ہمارا جسم ہمیں تکلیف دیتا ہے۔ ہم جوکام پہلے کر سکتے تھے اب وہ بھی نہیں کر سکتے نہ ہی دادی کے گھر جا سکتے ہیں۔‘

اس سوال کے جواب مںی کہ کیا وہ آپریشن کروانا چاہتی ہیں؟ فرح نے واضح انداز میں کہا ’نہیں، ہم ہمیشہ ساتھ رہنا چاہتےہیں۔‘

ان کی ماں ربیعہ کا کہنا تھا کہ ’ہم سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ان کا آپریشن کیا جائے کیونکہ اس میں زیادہ خطرہ ہے۔‘

سنہ دو ہزار پانچ میں ابوظہبی کے ایک امیر نے جب ریاست بہار کی ان بچیوں کے بارے میں ایک مقامی اخبارمیں پڑھا تو انہوں نے ان کا علاج کروانے کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن دونوں بہنوں کے والدین نے اسی وجہ سے ان کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

صبا ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور اپنے جیسے بچوں کا علاج کرنا چاہتی ہیں جبکہ فرح ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔

بالی ووڈ کے معروف اداکار نے ممبئی میں انھیں اپنے گھر مدعو کیا اور رکشا بندھن کے تہوار کے موقعے سے انھیں پچاس ہزار روپے بھی دیے۔

صبا اور فرح

صبا اور فرح ڈاکٹر اور ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔

صبا خاتون کا کہنا ہے کہ پڑوسی یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں لاکھوں روپے کی مدد ملی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ سلمان خان کے علاوہ ہمیں کہیں سے پیسہ نہیں ملا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ انہیں سلمان سے مدد کی امید ہے لیکن ان سے رابطہ قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔

ان کو مالی امداد چاہیۓ لوگوں نے انہیں امید بھی دلائی وعدے بھی کیے لیکن کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔

ڈاکٹر تیجسونی کا کہنا ہے کہ ’ان کی جتنی بھی زندگی ہے ان کو بہتر زندگی فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کی صحت کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے، انہیں تسلی کی ضرورت ہے موسیقی کے ان کے شوق کی آبیاری کر کے انھیں خوش رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیۓ۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔