’منموہن کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 11:07 GMT 16:07 PST
سشما سوراج

سشما سوراج بی جے پی کی رہنما ہیں اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی رہنما ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کوئلہ گھپلے معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے کی اپنی مانگ پر اٹل ہے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سشما سوراج نے کہا کہ بی جے پی اس معاملے پر کانگریس پارٹی پر دباؤ بنائے رکھے گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ اگر منموہن سنگھ کی حکومت کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کو رد نہیں کرتی ہے اور ’آزاد اور غیر جانبدار جانچ کا حکم نہیں دیتی ہے‘ تو بی جی پی پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے اختتام پر ملک گیر پیمانے پر تحریک شروع کرے گی۔

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی پارٹی کی جانب سے الاٹمنٹ رد کیے جانے اور اس معاملے میں جانچ کی بات فون پر کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی سے بات کی ہے۔

واضح رہے کہ سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں جاری مسلسل تعطل کو ختم کرنے کے ارادے سے حزب اختلاف کی رہنما کو فون کیا تھا۔

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ ابھی تک کانگریس نے ان کے دونوں مطالبات پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

الزامات

"ٹوجی سپکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ ہو، ہوائی جہاز کی خرید کا معاملہ ہو یا کہ مہنگائی کا معاملہ ہو کانگریس ان سب کی ذمہداری حلیف جماعتوں کے سر منڈھ دیتی ہے لیکن کوئلہ کی وزارت سنہ دو ہزار چار سے ہی کانگریس کے پاس ہے اور وہ بھی کافی زمانے تک وزیر اعظم کے پاس رہی ہے اس لیے پورے معاملے کی ذمہ داری منموہن سنگھ کی ہے"

پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ میڈیا میں کئی جگہ یہ کہا گیا ہے کہ بی جے پی نے منموہن سنگھ کے استعفے پر اپنے مطالبے میں نرمی کی ہے لیکن اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

حزب اختلاف کی رہنما نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کاروائی بخیر و خوبی جاری رکھنے کے لیے انھوں نے یہ دونوں شرطیں رکھی تھیں اور اس سے وزیراعظم کے استعفے کی مانگ میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوجی سپکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ ہو، ہوائی جہاز کی خرید کا معاملہ ہو یا کہ مہنگائی کا معاملہ ہو کانگریس ان سب کی ذمہ داری حلیف جماعتوں کے سر منڈھ دیتی ہے لیکن کوئلہ کی وزارت سنہ دو ہزار چار سے ہی کانگریس کے پاس ہے اور وہ بھی کافی زمانے تک وزیر اعظم کے پاس رہی ہے اس لیے پورے معاملے کی ذمہ داری منموہن سنگھ کی ہے۔

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ منموہن سنگھ کو چاہیے کہ وہ اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے استعفی دے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں کا الاٹمنٹ نیلامی کے نئے اصولوں کے تحت دوہزار چار سے ہی جاری ہیں لیکن منموہن سنگھ حکومت نے ان کی متعلق اب نوٹس جاری کیے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے جہاں دوسری حکومتوں نے بارہ سال کے دوران صرف ستر کوئلہ بلاکوں کا الاٹمنٹ کیاتھا وہیں کانگریس حکومت نے صرف گذشت چار برس میں ایک سو بیالیس بلاک کمپنیوں کے حوالے کیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔