پاکستان کو بجلی بیچنے کی تجویز کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST
نروپما راؤ

نروپما راؤ امریکہ میں بھارت کی سفیر ہیں۔

امریکہ میں بھارت کی سفیر نروپما راؤ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو پانچ سو میگاواٹ بجلی دینے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انھوں نے اپنے ٹويٹ میں کہا ہے کہ ’نیپال اور بنگلہ دیش میں بجلی کی ضروریات پر بھی بھارت پر غور کر رہا ہے۔‘

تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سالانہ ایک لاکھ ستّر ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے لیکن ملک میں بجلی کی مانگ کے مقابلے میں یہ مقدار کم ہے۔

بھارت کے پلاننگ کمیشن کے مطابق ملک میں مصروف ترین اوقات یعنی ’پیک آور‘ میں بجلی کی صرف دس فیصد کمی ہوتی ہے جبکہ عام حالات میں سات فیصد بجلی کی کمی رہتی ہے۔

پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ ’بجلی کی کم پیداوار ہی بجلی کی کمی کی واحد وجہ نہیں ہے، اس کے پیچھے مقامی سطح پر بجلی کی چوری اور زیادہ تر ریاستوں کے ذریعہ اپنی حد سے زیادہ بجلی لینا جیسے اسباب کار فرما ہیں۔‘

حال ہی میں ملک کے دو پاور گرڈوں کے ایک ساتھ فیل ہوجانے سے پریشان عوام نے بھارت کی سابق خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ کے اس ٹويٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ٹویٹ کرنے والے ایک شخص دیباشیش دتہ نے لکھا ہے: ’(دارالحکومت دلی کے قریب واقع) گڑگاؤں جیسے بڑے شہروں میں گھنٹوں بجلی نہیں رہتی ہے، چھوٹے شہروں کا کیا حال ہوگا۔۔۔ امریکہ کی طرح ہمیں پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے پھر دوسروں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

"بھارت کوئی جزیرہ نہیں ہے، اس لیے اس کا اپنے علاقے کے پڑوسی کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ہر ممکن مدد کے بارے میں سوچنا لازمی ہے"

نروپما راؤ

آشوتوش مرچی (ashutoshmerchy@) نے لکھا: ’بھوکے پیٹ دان دینے میں سمجھداری نہیں ہے‘

roshandawrani@ نے لکھا: ’میں اتر پردیش کا رہنے والا ہوں جہاں روزانہ دو گھنٹے بجلی نہیں رہتی، مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے پاس بیچنے کے لیے اضافی بجلی ہے۔‘

ان سب ٹويٹس پر نروپما راؤ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نیشنل گرڈ میں سال دوہزار سات سے دوہزار بارہ کے درمیان پچپن ہزار میگاواٹ بجلی کی صلاحیت بڑھائی گئی ہے، جس میں سال دو ہزار گیارہ - بارہ میں بیس ہزار پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل ہے.

انہوں نے کہا، ’یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس طرح کی امداد کے سبب بھارت میں بجلی کی کمی ہو جائے گی، یہ ہماری منشا کبھی بھی نہیں رہی ہے اور ساتھ ہی یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پڑوسی ممالک کو دی جانے والی مجوزہ بجلی کی مقدار بہت ہی کم ہے.‘

راؤ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کوئی جزیرہ نہیں ہے، اس لیے اس کا اپنے علاقے کے پڑوسی کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ہر ممکن مدد کے بارے میں سوچنا لازمی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔