پرموشن میں بھی ریزرویشن، بل پارلیمان میں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 10:34 GMT 15:34 PST

راجیہ سبھا میں ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی

بھارت میں حکومت نے ملازمین کی ترقیوں میں کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے لیے پارلیمان میں ایک بل پیش کیا ہے جس پر زبردست ہنگامہ آرائي ہوئي ہے۔

اس بل کا مقصد ملازمتوں میں پرموشن یعنی ترقی میں بھی درج فہرست ذ اتوں اور قبائیلیوں کے لیے سیٹیں مختص کرنا ہے۔

لیکن اس بل کو متعارف کرنے کے وقت پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماجی پارٹی کے دو ارکان کے درمیان ہاتھا پائي کی نوبت آگئي۔

ملائم سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی اس بل کی مخالف کر رہی ہے جبکہ بہوجن سماج پارٹی اس کی زبردست حامی ہے۔

وزارت عظٰمی کے دفتر کے امور کے وزیر ایس نارائن سوامی جب راجیہ سبھا میں یہ بل متعارف کروا رہے تھے تبھی ایس پی کے رکن پارلیمان نریش اگروال اور بی ایس پی کے اوتار سنگھ کے درمیان لڑائي ہوگئی۔

دونوں رکن پارلیمان کو ایک دوسرے کو دھکا دیتے اور ہاتھا پائی کرتے ہوئے دیکھ کر سپیکر نے ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی۔

مرکزی وزیر نارائن سوامی نے ایوان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سماجوادی پارٹی نے اس طرح کا برتاؤ کیا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ میرے پاس بھی آسکتے ہیں اس لیے ميں نے بل سے متعلق دستاویزات ہاتھ میں نہیں رکھی تھیں‘۔

" یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سماجوادی پارٹی نے اس طرح کا برتاؤ کیا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ میرے پاس بھی آسکتے ہیں اس لیے ميں نے بل سے متعلق دستاویزات ہاتھ میں نہیں رکھی تھیں۔"

مرکزی وزیر نارائن سوامی

سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی اس بل کی مخالفت کرتی رہے گي۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ غیر آئینی ہے ہم اس کے خلاف عوامی احتجاج کریں گے۔ اس بل سے جابز میں سینیئرٹی متاثر ہوگی‘۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے کوئلہ گھپلے سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ بل پیش کیا ہے اور پارٹی حکومت کے اس رویہ کی سخت مخالفت کرتی ہے۔

ملازمتوں میں کوٹے کی چند جماعتوں کو چھوڑ کر حزب اختلاف سمیت سبھی جماعتیں حمایت کر رہی ہیں لیکن بی ایس پی اس کی مخالف ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کوئلہ الاٹمنٹ میں مبینہ بد انتظامی کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے طور پر پہلے ہی سے پارلیمان میں ہنگامہ کر رہی ہے اور اسی کی طرف سے زبردست ہنگامے کے درمیان ہی بل کو پیش کیا گيا۔

یہ دسواں روز ہے جب بی جے پی کے احتجاج کے سبب پالیمان کا اجلاس نہیں چل سکا ہے اور مانسون کا اجلاس جمعہ کو ختم ہوجائےگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی پارلیمانی کے سب سے ناکارہ اجلاسوں میں اس مانسون اجلاس کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے جس میں تقریباً کوئي کام نہیں ہو پایا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایا وتی کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ بی جے پی ایوان کی کار روائی نہیں چلنے دے رہی ہے تا کہ اس بل کو منظور کیا جا سکے۔

مایاوتی نے کہا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ بل راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے لیکن اس پر ووٹنگ کے لیے اجلاس کا ہونا ضروری ہے جو بی جے پی ہونے نہیں دے رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔