بھارت: عورتوں پر تشدد کے ’حامی‘ جج کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 22:58 GMT 03:58 PST

بھارت میں عورتوں کے حقوق کی تنظیموں نے ریاست کرناٹکا کی ہائی کورٹ کے اس جج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نےایک مقدمے کی سماعت کےدوران کہا تھا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کا اچھا طرح سے خیال رکھتا ہے تو وہ اس پر تشدد بھی کر سکتا ہے۔

عورتوں کے حقوق کی تنظیموں نے جسٹس بہختاوتسالہ کے ریمارکس کو ’تذلیل آمیز‘ اور جنسی طور پر متصبانہ قرار دیتے ہوئے عدالت کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ جج کے خلاف کارروائی کرے۔

جسٹس بہختاوتسالہ نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے ریمارکس کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا ہے۔ جسٹس بہختاوتسالہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ناراض خاندانوں میں صلح کرانے کوشش کی ہے اور عورتوں پر تشدد کی کبھی بھی حمایت نہیں کی ہے۔

بھارت میں عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات عام ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سینتیس فیصد عورتیں کسی نہ کسی وقت اپنی شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔

وکلاء نے کہا ہے کہ جسٹس بہختاوتسالہ نے ایک مقدمے میں عورت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بچوں کی خاطر اپنے شوہر کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔