کشمیر:گمنام قبروں کے معاملے پر کشیدگی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST
کشمیر میں قبریں

انسان حقوق کے سرکاری کمیشن نے سفارش کی تھی کہ گمنام قبروں میں دفن افراد کی شناخت کی جائے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہیومن رائٹس کمیشن کی سفارش کے باوجود گمنام قبروں کی تفتیش پر سرکاری انکار سے انسانی حقوق کی تنظیمیں ناراض ہیں۔

کشمیر کے مختلف خطوں میں چھ ہزار سے زائد گمنام قبروں میں دفن افراد کی ڈی این اے شناخت پر تنازعہ شدید ہوتا جارہا ہے۔

انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے سفارش کی تھی کہ ان قبروں میں دفن لوگوں کی شناخت کا انتظام کیا جائے، لیکن حکومت نے ان قبروں میں دفن افراد کو ’دہشت گرد‘ قرار دے کر ڈی این اے شناختی عمل سے انکار کردیا۔

اس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت دراصل دنیا میں پھیلی ’اسلامو فوبیا‘ کی لہر سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔

"حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ کشمیر میں مارے گئے عسکریت پسندوں کی شناخت کا ریکارڑ موجود نہیں ہے، دوسری طرف بڑے اعتماد کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ یہاں کی چھہ ہزار قبروں میں جو لوگ دفن ہیں وہ سب عسکریت پسند ہیں اور اکثر غیرملکی ہیں۔ یہ تو مزاق ہے۔"

خُرم پرویز

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سِول سوسائیٹیز یا سی سی ایس کے ترجمان خُرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا ’حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ کشمیر میں مارے گئے عسکریت پسندوں کی شناخت کا ریکارڑ موجود نہیں ہے، دوسری طرف بڑے اعتماد کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ یہاں کی چھ ہزار قبروں میں جو لوگ دفن ہیں وہ سب عسکریت پسند ہیں اور اکثر غیرملکی ہیں۔ یہ تو مذاق ہے۔‘

رابطہ کرنے پر ریاست کے داخلی امور کے سیکریٹری بی آر شرما نے بتایا کہ حکومت ڈی این اے شناخت کے لئے تیار ہے، لیکن اس کے لئے اُن والدین یا رشتہ داروں کو ایسی قبروں کی شناخت کرنا ہوگی جن میں انہیں اپنے اقربا کے دفن ہونے کا یقین ہے۔

مسٹر شرما کہتے ہیں کہ ’ہم سبھی قبروں کو کھول کر لاشوں کا ڈی این اے کرنے کی فضول مشق کیوں کریں۔ اگر کوئی خاص شکایت ہے کہ فلاں قبر میں فلاں شخص کو دفن کیا گیا ہے ہم اس کے رشتہ دار سے خون کا نمونہ لے کر لاش سے بھی نمونہ لیں گے۔‘

لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

دراصل چند ہفتے قبل خرم پرویز نے حکومت سے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت یہ معلومات طلب کی تھیں کہ آیا انسانی حقوق کے کمیشن کی سفارش کا کیا ہوا۔ حکومت نے ستائیس صفحات پر مشتمل اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ’گمنام قبریں تو زیادہ بھی ہوسکتی ہیں، لیکن ان سب میں مقامی یا غیرمقامی عسکریت پسند دفن ہیں جو فوج کے ساتھ مختلف اوقات میں جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔‘

اس کے علاوہ سرکاری ردعمل میں بتایا گیا ہے کہ قبروں میں دفن لوگوں کی تفصیلات عام کی گئیں تو کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

حقوق انسانی کے لئے سرگرم حلقوں کا کہنا ہے کہ، ’حالات حقائق عام کرنے سے خراب نہیں ہوتے۔ حالات تب خراب ہوتے ہیں جب حقائق کو دبایا جائے اور انصاف کے راستے مسدود کئے جائیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔