فیئر اینڈ لولی لائے گي سفارتی رشتوں میں نکھار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 13:10 GMT 18:10 PST
بھارت اور پاکستان

فی الوقت اسلام آباد میں بھارت اور پاکستان کے درمیان خارجہ سطحی بات چیت جاری ہے

بھارت میں رنگ گورا کرنے والی مقبول ترین’فیئر اینڈ لولی‘ کریم اور پیراشوٹ نامی ناریل کا تیل گوری جلد اور لمبے بالوں کی چاہت رکھنے والوں کے کام برسوں سے آ رہی ہیں لیکن ان کا استعمال بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی رشتوں میں بھی نكھار اور مضبوطی لا سکتا ہے۔

پاکستان میں فیئر اینڈ لولی کریم، ڈابر واٹیكا تیل، زعفرانی زردے نے سرحدوں کی بندشوں کو توڑ کر عام پاکستانی کے دلوں اور گھروں میں جگہ بنالی ہے۔

پاکستان کے کراچی شہر میں کریانے کی ایک بڑی دکان چلانے والے ایک دکاندار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ اپنی دکان میں ان تمام چیزوں کو خوب فروخت کرتے ہیں اور ان مصنوعات کو دوگنی سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

وہ قیمتوں کا حساب سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، سب سے پہلے تو جو تاجر مال بھارت سے لاتے ہیں وہ اپنا فائدہ لیتے ہیں، پھر ہول سیلر اپنا منافع بٹورتا ہے اس کے بعد ریٹیلر اپنا منافع لیتا ہے۔ کل ملا کر دام دگنے سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں‘۔

بھارت میں صنعت و کاروبار سے متعلق تنظیم ایسوچیم کہنا ہے کہ کاغذ پر بھارت پاکستان کے درمیان ہربرس تقریبا پندرہ ہزار کروڑ بھارتی روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ فی الوقت بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکرٹری اسلام آباد میں بات چیت کر رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے کامرس سیکریٹریوں کی بات چیت بھی جلد متوقع ہے۔

پاکستان کے صنعت کاروں کی بڑی تنظیم ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ شکیل احمد ڈھيگرا کا کہنا ہے ’جو کاروبار بھارت کی بندرگاہوں سے براہ راست ہوتا ہے اس کی قیمت اتنی ہے جتنی ایسوچیم نے بتائی ہے لیکن حقیقت میں یہ کاروبار بیس اور ستائیس ہزار کروڑ بھارتی روپے کا ہے۔ جو ہندوستانی مال ہم دبئی اور سنگاپور سے درآمد کرتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے‘۔

ایسوچیم کے مطابق بھی تیسرے ممالک کے راستے بھارت سے پاکستان جانے والے مال کے کاروبار کی قیمت پچیس سے تیس ہزار کروڑ روپے کا ہے۔

بھارت کافی پہلے ہی پاکستان کو تجارت کے لحاظ سے’پسندیدہ ممالک‘ کی فہرست میں رکھنے کے لیے اعلان کر چکا ہے۔

پاکستان بھی اس طرح کا اعلان کر چکا ہے لیکن اس بارے میں ابھی مزید قدم اٹھائے جانے کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔