ہندپاک دوستی، کشمیریوں کو خدشات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 11:05 GMT 16:05 PST
کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے عوام کو لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو فراموش کیا گیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان کی تحریک کو ’لیٹ ڈاؤن‘ کیا ہے۔

گزشتہ بائیس سال کی مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود کشمیر کی علیٰحدگی پسند تنظیموں کو لگتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات سے یہاں جاری ہند مخالف تحریک کمزور ہو رہی ہے۔

اس حوالے سے علیٰحدگی پسندوں کے ایک دھڑے نے اگلے ماہ پاکستان جانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے بھی ان حلقوں کو کوئی خاص توقعات نہیں ہیں یہاں تک کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک میں جمعہ کے روز ایک احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔

مارچ کا مقصد مسلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔ مسٹر ملک نے اس موقع پربتایا ’جب بھی ہندوستان یا پاکستان کشمیر پر بات کرتے ہیں تو ان کا اعلانیہ کشمیری عوام کو ریڈیو یا ٹی وی کےذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ کشمیریوں کو شامل کیے بغیر کشمیر پر بات کرنا دونوں کے لیے غیراخلاقی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ہندوستان ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے عام لوگوں کو لگتا ہے کہ مسلہ کشمیر کو فراموش کیا گیا۔ یہ بیانات کشمیری نوجوانوں کو دوبارہ مسلح جدوجہد پر اُکساتے ہیں۔

مارچ میں لبریشن فرنٹ کے درجنوں کارکنوں نے شرکت کی جو ’ہم کیا چاہتے، آزادی‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر اور کتبے تھے جن پر آزادی کا مطالبہ جلی حروف میں لکھا تھا۔

دریں اثنا حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے تاریخی جامع مسجد میں جعمہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کہا ’ یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان اور پاکستان تجارتی اور سفارتی تعلقات میں آگے بڑھے ہیں، لیکن مسلہ کشمیر پر سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی مسلہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔’میرواعظ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کرینگے، جہاں وہ تمام پارٹیوں کی قیادت سے مسلہ کشمیر سے متعلق بات چیت کرینگے۔

"یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان اور پاکستان تجارتی اور سفارتی تعلقات میں آگے بڑھے ہیں، لیکن مسلہ کشمیر پر سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی مسلہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے"

میرواعظ عمر فاروق

حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی کو حکومت نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے ہی گھر میں نظربند کر رکھا ہے۔ انہیں کسی عوامی یا مذہبی اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں دی جاتی۔

پولیس حصار کے دوران مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پچھلے ساٹھ سال سے بھارت سے مذاکرات کر رہا ہے، لیکن کشمیر کو روایتی طور پر کور ایشو (اہم ترین مسلہ) قرار دیا جاتا رہا۔ جس انداز سے اب پاکستان بات کرتا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کور ایشو کی پالیسی سے انحراف کیا گیا ہے‘۔

دریں اثناء ہند نواز جماعت نیشنل کانفرنس نے ایک بیان میں بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا اور ان کی پاکستانی ہم منصب حنا ربّانی کھر سے اپیل کہ ہے کہ ’اگر وہ دشمنیوں کو فراموش کریں اور مسلہ کشمیر کو حل کریں تو تاریخ رقم ہوسکتی ہے۔‘

حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے اس بیان میں دونوں ملکوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی تجاویز پر عمل کریں۔ ان تجاویز میں ویزا پالیسی کو نرم کرنا ، کنٹرول لائن کے ذریعہ آمدورفت کو بڑھانا اور کشمیری خطوں کے مابین تجارت کا فروغ وغیرہ شامل ہیں۔

مسلہ کشمیر اور اس سے متعلق ہندپاک سفارتکاری سے عوامی حلقے بھی کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

مبصرین اس کی الگ الگ وجوہات بتاتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں کا جال عوامی مباحث کو پنپنے نہیں دیتا۔ بینک کار اور شاعر جاوید احمد میر کہتے ہیں’طاقت کا توازن یکطرفہ ہے۔ حکومت جو چاہتی ہے وہی پروجیکٹ ہوتا ہے، اور اس طرح ظلم اور قدغنیں سیاحت اور تجارت کے شور میں دب جاتی ہیں‘۔

لیکن کچھ دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی نئی نسل تعلیم اور روزگار کے میدانوں میں مقابلہ کرتی ہے اور وہ سیاسی نعروں اور خوش امیدیوں پر زندگی گزارنا نہیں چاہتی ہے۔ ایک معروف تاجر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا ’اگر اظہار رائے کی آزادی ہوتی تو میں دونوں ملکوں سے کہتا کہ تجارت کو فروغ دینا ہے توسیاست کو بیچ میں نہ لاؤ۔ کشمیری ترقی پسند ہیں، ان کی امنگیں ہیں اور وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔