’اپوزیشن نے جمہوری اصولوں کی نفی کی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 11:33 GMT 16:33 PST
منموہن سنگھ اور سشما سوراج

منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک کو سنگین مسائل کا سامنا ہے جس پر بحث ہونی ضروری ہے

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے ان پر جمہوریت کے اصولوں کو مسترد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے جن پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے تھی لیکن بی جے پی نے دونوں ایوانوں کا کام کاج نہیں چلنے دیا۔

واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت تک پارلیمان کی کارروائی نہ چلنے دینے کا اعلان کر رکھا ہے جب تک کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ مستعفی نہیں ہوتے اور کانوں کا الاٹمنٹ منسوخ نہیں کردیا جاتا۔

بی جے پی نے تقریباً تین ہفتے تک دونوں ایوانوں کی کارروائی نہیں چلنے دی۔

وزیر اعظم نے کہا ’بھارت کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن پر پارلیمان میں فوری بحث کی ضرورت تھی۔ نسلی تشدد، دہشتگردی، ماؤنواز باغیوں سے خطرہ، ان مسائل پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے تھی۔ ملک کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا جمہوریت میں اس انداز میں کام ہونا چاہیے؟‘

"ہندوستان کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن پر پارلیمان میں فوری بحث کی ضرورت تھی۔نسلی تشدد، دہشتگردی، ماؤنواز باغیوں سے خطرہ، ان مسائل پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے تھی۔ ملک کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا جمہوریت میں اس انداز میں کام ہونا چاہیے۔"

منموہن سنگھ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ کبھی کبھی پارلیمان کے نہ چلنے سے بھی واضح پیغام جاتا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ اس نے ملک کے وسیع تر مفاد میں پارلیمان کا کام روکا ہے اور کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ پر وہ کسی بھی حالت میں اپنا موقف نہیں بدلے گی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی کانیں وزیرِاعظم کے دستخط کے نیچے الاٹ کی گئی ہیں اس لیے یہ معاملہ آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے اس لیے یہ الاٹمنٹ منسوخ کیے جائیں گے۔

پارلیمان کا اجلاس جمعہ کو غیر معینہ مدت کے لے ملتوی کر دیا گیا۔ حکومت کی خواہش تھی کہ کانوں کی الاٹمنٹ پر پارلیمان میں بحث کرائی جائے لیکن بی جے پی اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس پس منظر میں وزیرِاعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ جمہوریت پارلیمان اور دستور ہند کے بنیادی اصولوں کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

بی جے پی کا احتجاج سرکار کے کنٹرول سے آزاد نگراں ادارے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا تھا کہ کانوں کے الاٹمنٹ سے غیر سرکاری کمپنیوں کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہونےکا امکان ہے اور نیلامی کی صورت میں اس کا ایک حصہ سرکاری خزانے میں آسکتا تھا۔

کانوں کے الاٹمنٹ کی تفتیش سی بی آئی کی جانب سے بھی جاری ہے اور اس نے پانچ کمپینوں کے خلاف دھوکہ دہی اور فرضی دستاویزات کی بنیاد پر الاٹمنٹ حاصل کرنے کے الزام میں مقدمے قائم کیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔