’سشما سوراج وزیر اعظم کے لیے موزوں ترین‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 14:47 GMT 19:47 PST
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے کے بیان پر سیاسی ہلچل

بھارت میں این ڈی اے کی اہم اتحادی جماعت شیوسینا نے بی جے پی اور پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی رہنما سشما سوراج کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے سب سے موزوں امیدوار قرار دیا ہے۔

شیو سینا کے اس بیان سے ملک کی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے قبل کئی حلقوں سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے این ڈی اے کے امیدوار کے طور پر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور تیسرے مورچے کے امیدوار کے طور پر نیتیش کمار کا بھی نام آتا رہا ہے۔

شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے کہا کہ سشما سوراج ہی بی جے پی میں واحد رہنماء ہیں جو وزیر اعظم بننے کے لائق ہیں۔

بی جے پی بال ٹھاکرے کے اس بیان کے بعد اپنا دفاع کرتی نظر آئی۔ اس نے کہا کہ وزیر اعظم کا فیصلہ سال دو ہزارچودہ میں ہونے والے لوک سبھا انتخاب کے بعد کیا جائے گا۔

این ڈی اے کی دوسری حلیف جماعتوں نے کہا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے، جب کہ بر سر اقتدار جماعت کانگریس نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔

کانگریس نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی میں کتنی پھوٹ ہے۔

قابل اور ذہین خاتون

"میں نے یہ کئی بار کہا ہے ... وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بہترین امیدوار ہونگی، وہ قابل اور ذہین خاتون ہیں۔ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی"

بال ٹھاکرے

شیوسینا کے ترجمان روزنامے ’سامنا‘ میں اتوار کو شائع ہونے والے اپنے طویل انٹرویو کے تیسرے حصہ میں بال ٹھاکرے نے کہا کہ ’اس وقت صرف ایک ہی شخصیت ہے جو ذہین اور قابل ہے، سشما سوراج۔‘

وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ بی جے پی میں کسے وزیر اعظم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے یہ کئی بار کہا ہے ۔۔۔ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بہترین امیدوار ہوں گی، وہ قابل اور ذہین خاتون ہیں۔ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔‘

بی جے پی کے رہنما بلبیر پنج سے جب ٹھاکرے کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے کہا کہ ’ہماری پارٹی میں بہت سے لیڈر ہیں جو ملک کی قیادت کر سکتے ہیں۔‘

کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ ’این ڈی اے لوگوں کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر ہی وزیر اعظم بنانے لگ جاتی ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا بی جے پی اور شیو سینا کا اتحاد مضبوط ہے، ٹھاکرے نے کہا کہ ’میں سخت لفظ کا استعمال نہیں کر سکتا، سوچ بدل گئی ہے، ذاتی لڑائیاں ہیں، پارٹیوں کی لڑائیاں ہیں۔ پہلے کے این ڈی اے میں واجپئی جیسے لیڈر تھے، اب ایسی کوئی قیادت نہیں ہے، لیکن میں این ڈی اے کی بات کر رہا ہوں، نہ کہ بی جے پی کی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔