بھارت: نقشے اور ریکارڈ سے باہر ایک گاؤں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 09:35 GMT 14:35 PST
گاؤں

ایک گاؤں جس میں بنیادی سہولتوں کی سخت کمی ہے۔

کیا آپ کسی ایسے گاؤں کا نام جانتے ہیں جو نہ سرکاری ریکارڈ میں ہو، نہ نقشے پر موجود ہو، نہ اس کی اپنی کوئی پنچائت ہو، اور نہ ہی اسمبلی میں اس کا کوئی نمائندہ ہو؟

یہ باتیں کسی خیالی گاؤں کے بارے میں نہیں کی جا رہی ہیں اور نہ ہی فلم 'شعلے' کے گاؤں رام گڑھ کے بارے میں۔ در حقیقت بغیر پتے والے ایسے ہی ایک گاؤں سے میں گذشتہ ہفتے ہو کر لوٹا ہوں۔

ممبئی سے ایک سو پچاس کلومیٹر دور پہاڑوں میں بسا یہ گاؤں ہے آسرا نگر۔ بظاہر یہ گاؤں مہاراشٹر کے ضلع پونہ میں واقع ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ اس دنیا سے باہر آباد ہے۔

اسے اگر مہاراشٹر کے نقشے پر دیکھنے کی کوشش کریں یا پھر انتظامیہ کے ریکارڈ میں اس گاؤں کے نام کو تلاش کرنے کی کوشش کریں تو آپ اپنا وقت برباد ہی کریں گے۔

یہاں کوئی سکول نہیں ہے، کوئی استاد نہیں ہے، روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، کوئی دکان نہیں ہے، کوئی بازار نہیں ہے، یہاں کوئی ڈاكيا بھی نہیں آتا، اس گاؤں کا کوئی سرپنچ بھی نہیں کیونکہ اس کی اپنی کوئی پنچایت ہی نہیں ہے، کوئی کھیتی نہیں، مزدوری کے لیے بھی دور کے گاؤں میں جانا پڑتا ہے۔.

سماج سے بے دخل

"گاؤں کے لوگوں کو حکومت بھول گئی ہے. 'ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ کی نظر میں ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے ہمیں سماج سے بے دخل کر دیا گیا ہے"

تقریبا دو سو افراد پر مشتمل قبائلیوں کے اس گاؤں میں گھر تو ہیں لیکن اصل میں یہ لوگ بے گھر ہیں۔ گاؤں کے آس پاس پہاڑ ہیں اور برسات کی ہریالی نے پورے ماحول کو خوبصورت بنا رکھا ہے۔

گاؤں میں کھڑے ہو کر احساس ہوتا ہے کہ یا تو ہم کسی فلم کے سیٹ پر کھڑے ہیں یا پھر کسی چھوٹی ہوائی پٹی پر جو اپنی اونچائی کی وجہ سے آسمان کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔

گاؤں میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایک چھوٹا سا کتبہ ملے گا جس پر تاریخ پیدائش تاریخ وفات درج ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ سال جب اس شخص کی موت ہوئی تھی اس وقت ان کی عمر پچاس سے بھی کم تھی اور یہ کہ وہ اکیس سالہ ہیمنت ڈھاگر کے والد تھے۔

گاؤں

پینے کے پانی کے لیے پہاڑ سے نیچے جاکر تالاب سے پانی لانا پڑتا ہے۔

ہیمنت بتاتے ہیں، ’میرے والد گزشتہ سال بارش کے موسم میں نیچے سے پہاڑوں پر واپس گھر آ رہے تھے کہ ان کا پاؤں پھسل گیا. ہم نے رات میں انہیں تلاش کیا لیکن ان کا کوئی پتہ نہیں چلا. اگلے دن صبح ان کی لاش ملی۔‘

گاؤں والوں کی عام شكايت تھی یہ تھی کہ انھیں پانی لانے یا گاؤں سے باہر آنے جانے میں اوپر سے نیچے جانا اور نیچے سے اوپر چڑھنا پڑتا ہے جس کے دوران کئی بار لوگوں کے پھسلنے کے واقعات رو نما ہو جاتے ہیں۔

اس گاؤں کے بچوں کو دیکھ کر واضح طور پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ غذایت کی کمی کا شکار ہیں۔

گاؤں کے ایک باشندے آسرے کہتے ہیں ’غربت کی وجہ سے بچوں کو صحیح خوراک نہیں مل پاتی تھی تو ہم نے گاؤں میں اجتماعی طور پر پیسے جمع کرنا شروع کیے ہیں، ہفتے میں دو سو روپے اکٹھے ہو جاتے ہیں، اس سے ہم بچوں کے لیے دودھ اور دوائیوں کا انتظام کرتے ہیں‘۔

کالج میں پڑھنے والے ہیمنت ڈھاگر اس گاؤں کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ میں نے گاؤں کی خوبصورتی کی تعریف کی تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے: ’ایسی خوبصورتی کس کام کی، جب یہاں نہ تو بجلی کی سہولت ہے، نہ ہی پانی کی‘۔

پینے اور نہانے کے لیے جس پانی کا استعمال کیا جاتا ہے، اسے گاؤں والے پہاڑوں سے نیچے اتر کر وادی کے تالاب سے اوپر لاتے ہیں۔

ہیمنت کا کہنا ہے کہ گاؤں کے لوگوں کو حکومت بھول گئی ہے۔ ’ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ کی نظر میں ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے ہمیں سماج سے بے دخل کر دیا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔