بھارتی کارٹونسٹ کی ضمانت کے بعد رہائی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 10:29 GMT 15:29 PST
اسیم تریویدی

اسیم تریویدی نے ضمانت کی درخواست دینے سے انکار کردیا تھا

بھارتی آئین اور قومی نشان کی توہین کے الزام میں گرفتار بھارتی کارٹونسٹ اسیم تریویدی کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد اسیم تریویدی نے کہا کہ وہ تب تک اپنی لڑائی جاری رکھیں گے جب تک ان پر لگے سارے الزام واپس نہیں لیے جاتے۔

ممبئی پولیس نے اسیم تریویدی کو چار روز قبل گرفتار کیا تھا اور وہ ممبئی کی آرتھر جیل میں قید تھے۔

گزشتہ روز ممبئی ہائی کورٹ نے اسیم تریویدی کی ضمانت منظور کر لی تھی جبکہ مہاراشٹر کی حکومت نے اسیم پر عائد قوم سے بغاوت کا الزام واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مہارشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا تھا کہ اسیم تریویدی پر قوم سے بغاوت کا الزام ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے الزامات کی نوعیت میں تبدیلی اب عدالت کی اجازت سے ہی کی جا سکتی ہے۔

اسیم ترویدی کی گرفتاری سے ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر شدید بحث شروع ہوگئی ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے بہت سے اداروں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تریویدی کو اب قومی نشان کی توہین کے الزام کا سامنا ہوگا۔ قوم سے بغاوت کے الزام میں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے اور ملک میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ چاہے کارٹون ’کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں‘ کیا واقعی اتنے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے تھا؟

اسیم تریویدی ملک میں بدعنوانی کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے کچھ کارٹون اپنی ویب سائب ’ کارٹونز اگینسٹ کرپشن‘ یا بدعنوانی کے خلاف کارٹون پر شائع کیے تھے جن کے سلسلے میں ممبئی پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی۔

ان کارٹونوں میں آئین اور قومی نشانات کو استعمال کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ملک کو کس طرح لُوٹا جا رہا ہے۔

اسیم تریویدی نے اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے یا ضمانت کی درخواست دینے سے انکار کر دیا تھا۔

صحافیوں کے ایک اور بین الاقوامتی ادارے سی پی جے نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ’ایک سنگین مسئلے کو نمایاں کرنے پر اسیم تریویدی کی گرفتاری اختیارات کے بے جا استعمال کی مثال ہے اور ہندوستان کے جمہوری اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔‘

ہندوستان میں کارٹونوں یا کارٹون نگاروں کے خلاف حال ہی میں کئی مرتبہ کارروائی کی گئی ہے۔

ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے حکم پر ایک کارٹون انٹرنیٹ پر شائع کرنے پر ایک پروفیسر کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ چند ماہ قبل حکومت نے پچاس سال پرانے کچھ سیاسی کارٹون نصاب کی کتابوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔