’ کانوں کی نیلامی میں گھپلہ نہیں ہوا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 13:13 GMT 18:13 PST
دگ وجے سنگھ

دگ وجے سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو جھوٹ بولنے کی عادت پڑگئی ہے

حزب اختلاف کی جانب سے کوئلہ کی کانوں کے الاٹمنٹ میں ہونے والے مبینہ گھپلے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن رہی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئلہ کی کانوں کی الاٹمنٹ میں کوئی گھپلہ نہیں ہوا ہے اور اس سے حکومت نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی بی آئی صرف اس بات کی تفتیش کررہی ہے کہ جن کمپنیوں کو بلاکس الاٹ کیے گئے تھے وہ اس کے لائق بھی تھیں یا نہیں۔

لکھنو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے دو اہم لیڈر مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد اور دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ کوئلہ الاٹمنٹ میں کوئی گھپلہ نہیں ہوا ہے اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بغیر کسی وجہ کے انکے خلاف جھوٹے الزامات لگارہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں صرف یہ کہا ہے کہ اگر کوئلے کی کانوں کی نیلامی کی جاتی تو حکومت کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوا ہوتا لیکن رپورٹ میں کہیں یہ بھی یہ نہیں کہا گیا ہے اس میں وزیراعظم یا حکومت نے کوئی فائدہ اٹھایا ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ کے آنے کے بعد سی بی آئی معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے پاس وزیراعظم کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔

دگ وجے سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یو پی اے کی حکومت نے جب کوئلہ کی کانوں کی نیلامی کی پیش کش رکھی تھی تو سب سے زیادہ مخالفت خود بھارتی جنتا پارٹی نے کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یو پی اے حکومت نے اپنے پہلے دور اقتدار میں یہ پیش کش رکھی تھی کہ کوئلے کی کانوں کی نیلامی کی جائے تو چھتیس گڑھ، اڑیسہ، مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نیلامی کے بغیر کوئلے کی کانیں حاصل ہونے سے بھارت میں نجی کمپنیوں کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہونے کا امکان ہے اور یہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

اس رپورٹ کے عام ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے پر مُصِر ہے وہیں کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی عوام کا دھیان حکومت کی کامیابوں سے ہٹانا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہ وہ حکومت کے خلاف ایک کے ایک بعد جھوٹا الزام لگارہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔