سلمان رشدی: بھارت نے پابندی میں جلدی کی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 09:47 GMT 14:47 PST
سلمان رشدی

سلمان رشدی کی کتاب ' مڈنائٹ چلڈرن' پر حال ہی ایک فلم بنی ہے جس کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ بھارت میں ریلیز ہوگی یا نہیں

بھارتی نژاد برطانوی ادیب سلمان رشدی نے کہا ہے کہ بھارت نے ان کے متنازع ناول ’دا سیٹینک ورسز‘ (شیطانی آیات) پر بغیر سوچے سمجھے پابندی لگادی تھی۔

سلمان رشدی نے یہ بات اپنی جلد شائع ہونے والی خودنوشت سوانح ’جوزف اینٹن‘ میں کہی ہے۔ اس کتاب کے بعض اقتباسات دا نیویارکر ميگزین میں شائع ہوئے ہیں۔

’دی سیٹینک ورسز‘ پر بھارت میں پابندی عائد ہے۔ یہ کتاب انیس سو اٹھاسی میں لکھی گئی تھی اور اس کے خلاف مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔

اس کے بعد بہت سے ممالک میں اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ ایران کے روحانی پیشوی آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جاری کر دیا تھا۔

آیت اللہ خمینی کی جانب سے رشدی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کے بعد وہ کئی سالوں تک زیرِ زمین رہے۔ ’جوزف اینٹن‘ کتاب میں رشدی نے اپنی زندگی کے انہی برسوں کا تذکرہ کیا ہے۔

رشدی اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ چھ اکتوبر انیس سو اٹھاسی کو ان کے دوست سلمان حیدر جو لندن میں واقع بھارتی سفارتخانے میں ڈپٹی ہائی کمشنر تھے نے انہیں ’باقاعدہ بلایا اور بھارتی حکومت کی جانب سے یہ پیغام دیا کہ کہ سٹانک ورسز پر بھارت میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔‘

رشدی مزید لکھتے ہیں ’پابندی کا فیصلہ کرنا سے پہلے سرکاری کی جانب سے متعین کردہ کسی بھی کمیٹی نے کتاب کا جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی اس کے لیے قانونی کارروائی کی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’پابندی کا فیصلہ وزارتِ خزانہ نے کسٹم کے قانون کی دفعہ گیارہ کے تحت کیا جس کے پیش نظر کتاب کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی۔‘

واضح رہے کہ سلمان رشدی کے ناول پر پابندی کو ایک عرصہ ہوگیا ہے لیکن بھارت میں بعض مسلمان اب بھی ان سے ناراض ہیں۔ حال ہی میں اس ناراضی کا اظہار ایک بار پھر اس وقت ہوا جب انہیں گذشتہ برس ہونے والے جے پور ادبی میلے میں دعوت دی گئی لیکن آخر میں سلمان رشدی میلے میں نہیں پہنچے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بھارت میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

اس سے پہلے سلمان رشدی دو ہزار سات میں جے پور کے ادبی میلے میں شرکت کر چکے ہیں لیکن اس وقت کوئی تنازع نہیں ہوا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔