اسلام مخالف فلم : کشمیریوں کا محتاط ردعمل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 13:59 GMT 18:59 PST
فلم کے خلاف احتجاج

لیبیا امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا گیا تھا

مصر، یمن اور لیبیا میں کشیدگی بھڑکانے والی اسلام مخالف فلم پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں محتاط ردعمل پایا جا رہا ہے۔

دو ہزار دس میں ایک امریکی پادری کے ذریعہ قران کے نسخے نذرآتش کرنے کے واقعہ پر یہاں پرتشدد مظاہرے ہوئے اور ایک پولیس اہلکار سمیت چودہ افراد مارے گئے۔ لیکن اس بار اسلامی گروپوں نے لوگوں سے پرامن اور محتاط ردعمل کی تلقین کی ہے۔

کشمیر میں اسلامی نظام کے حامی علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز پرامن مظاہروں کا اہتمام کریں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا : ’مسلمانوں ردعمل ظاہر کرتے وقت ثابت کرنا چاہیئے کہ وہ دنیا کی مہذب ترین قوم ہیں۔اور شائیستگی اور تحمل میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔‘

مسٹر گیلانی نے بیان میں مزید کہا کہ ’مسلمانوں کے بارے میں یورپ اور امریکہ میں ایک بیمار نفسیات پروان چڑھ رہی ہے جس اسکا اظہار کارٹون، کتابوں یا فلموں کے ذریعہ ہوتا رہتا ہے۔‘

حکیم عرفان

حکیم عرفان کا کہنا ہے کہ اسلام کی دشمنی کی ان حرکتوں پر مسلم ممالک کو متحرک ہونا چاہیئے۔

دریں اثنا جمعیت اہلحدیث کے سربراہ غلام رسول ملک نے بھی ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا: ’سزا اسی کو ملنی چاہیئے جس نے قصور کیا ہو۔‘

اس بالواسطہ ریمارکس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر ملک نے کہا: ’جو کچھ لیبیا میں ہوا وہ ایک جذباتی ردعمل ہے، امریکہ نے اگر تحقیقات کا حکم دیا ہے تو قصوروار انصاف کے کٹہرے میں آجانا چاہیئے۔ اگر اسامہ بن لادن کو ڈھونڈا جاسکتا ہے تو ایک اسلام دشمن کو ڈھونڈنا امریکہ کے مشکل نہیں ہے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ امریکہ ایسے عناصر کی پشت پناہی کررہاہے۔‘

انہوں نے سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ امریکی حکومت کے یہاں اپنا احتجاج درج کروائیں۔

"جو کچھ لیبیا میں ہوا وہ ایک جذباتی ردعمل ہے، امریکہ نے اگر تحقیقات کا حکم دیا ہے تو قصوروار انصاف کے کٹہرے میں آجانا چاہیئے۔ اگر اسامہ بن لادن کو ڈھونڈا جاسکتا ہے تو ایک اسلام دشمن کو ڈھونڈنا امریکہ کے مشکل نہیں ہے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ امریکہ ایسے عناصر کی پشت پناہی کررہاہے۔"

رسول ملک

اس واقعہ سے متعلق یہاں کے عوامی حلقوں میں بھی ایک تبدیلی پائی جارہی ہے۔ نئی دلّی میں مقیم کشمیری صحافی حکیم عرفان کہتے ہیں: ’ا سلام دشمنی کی ان حرکتوں پر مسلم ممالک کو متحرک ہونا چاہیئے۔ آخر او آئی سی کس لئے ہے۔ انفرادی سطح پر احتجاج فضول ہے، کیونکہ انفرادی سطح کا احتجاج مفاد خصوصی رکھنے والوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوجاتا ہے۔‘

کشمیریوں کے نپے تُلے ردعمل کے بارے میں بعض مبصرین کہتے ہیں کہ لیبیا کا واقعہ متنازعہ ہے اور اس کی کئی جہتیں ہیں۔ مصنف پی جی رسول کہتے ہیں: 'قابل افسوس ہے کہ اسلام اور ہمارے پیارے پیغمبر کو اب عالمی سطح کے تنازعوں کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں نے بردباری کا ثبوت دیا ہے، وہ حقائق کا مطالعہ کرنا سیکھ چکے ہیں۔'

قابل ذکر ہے کہ’مسلمانوں کی معصومیت' عنوان سے ایک فلم گزشتہ جون کے اواخر میں ہالی ووڑ کے ایک سینما گھر میں چلی۔ بعدازاں جولائی میں اس فلم کے کچھ حصے انٹرنیٹ کسی 'سیم بیسائل‘ نے اپ لوڈ کئے۔ لیکن اس ماہ یہ کلپس عربی ترجمہ کے ساتھ انٹرنیٹ پر مشتہر ہوئی ہیں جس کے بعد عرب دنیا میں کشیدگی بڑھ گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔