بھارت: سکول میں سزا، بچے کی موت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 10:31 GMT 15:31 PST
محمد اسماعیل

حیدرآباد کے ایک اسکول کے طالب علم کی موت پر ہنگامہ

بھارت کے شہر حیدرآباد کے ایک سکول میں دسویں جماعت کے ایک طالب علم کو ایک دوسرے طالبِ علم سے لڑنے کی پاداش میں سزا سنائی گئی جس کے بعد اس کی موت ہو گئی ہے۔

شہر کے مدنناپیٹ تھانے کے انسپکٹر سوریہ پرکاش نے بتایا کہ چودہ سال کے محمد اسماعیل کی ہسپتال میں موت ہو گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ طالب علم کے والد محمد صدیق حسین کی شکایت پر رائل ایمبیسی سکول کی انتظامیہ اور سکول کی ایک استانی کے خلاف مبینہ لاپرواہی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لیکن انھوں نے کہا ہے کہ بچے کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چل سکے گی۔

لیکن ہسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ کے سبب بچے کے دماغ کی نسیں پھٹ جانے کی وجہ سے یہ موت واقع ہوئی۔

محمد اسماعیل کے والد صدیق کا کہنا ہے، ’یہ واضح ہے کہ بچے کی موت غیر انسانی سزا کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ قتل ہے، میرا بچہ تو واپس آ نہیں سکتا ہے لیکن میں انصاف کے لیے لڑتا رہوں گا تاکہ دوسرے بچوں کے ساتھ ایسا نہ ہو۔‘

محمد اسماعیل کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ سخت جسمانی سزا کی وجہ سے ہی بچے کی جان گئی ہے۔

غیر انسانی سزا

"یہ واضح ہے کہ بچے کی موت غیر انسانی سزا کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ قتل ہے، میرا بچہ تو واپس آ نہیں سکتا ہے لیکن میں انصاف کے لیے لڑتا رہوں گا تاکہ دوسرے بچوں کے ساتھ ایسا نہ ہو"

محمد صدیق

صدیق حسین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی سکول میں کسی بچے سے لڑائی ہو گئی تھی جس کے بعد اسے تین ستمبر کو دو سو بار اٹھک-بیٹھک کی سزا دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بچے کے پاؤں کا آپریشن ہوا تھا اور اس کے پاؤں میں لوہے کی راڈ ڈالی گئی تھی، اس کے بعد بھی سکول کے ٹیچروں نے اسے پورے سکول میں گھمایا اور ہر کلاس میں لے جاکر اس سے اٹھک بیٹھک کرائی۔ اسے نہ صرف جسمانی سزا دی گئی بلکہ ذہنی اذیت بھی دی گئی اور وہ یہ شرمندگی برداشت نہیں کر سکا۔‘

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس نے گھر واپسی پر بدن درد اور بخار کی شکایت کی لیکن خوف کی وجہ سے ‎سزا کے بارے میں نہیں بتایا۔ دو دنوں بعد اس نے ماں کو سارا ماجرا سنایا۔

جب اسکی حالت کافی بگڑ گئی تو اسے ہسپتال لے جایا گیا، تین الگ الگ ہسپتالوں میں علاج کے باوجود اس کی حالت بگڑتی گئی اور وہ بے ہوش ہوگیا اور ایک پرائیوٹ ہسپتال میں اس کی موت ہو گئی۔

جوں ہی بچے کی موت کی خبر پھیلی مدننا پیٹ کے علاقے میں قائم اس سکول پر ایک بھیڑ نے حملہ کر دیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے اس معاملے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

دوسری جانب سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ بچے کے علاج کا خرچ سکول نے ہی اٹھایا ہے لیکن وہ اس بات کا جواب نہ دے سکے کہ آخر بچے کی موت کس وجہ سے ہوئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔